Mohammad Aazam

محمد اعظم

نئی غزل کے ممتاز شاعر

محمد اعظم کی غزل

    اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے

    اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے باقی جو تعلق ہے وہ تہمت کی طرح ہے کیا جانئے کس لمحہ یہ ہاتھوں سے پھسل جائے اک رشتہ جو نادار کی غیرت کی طرح ہے دیکھوں تو سہی ہوتی ہے کیا وصل کی توسیع اب ہجر ترا میری ضرورت کی طرح ہے اک سبز سا نقطہ یہ بتاتا ہے کہ ہے وہ اب اس سے ملاقات علامت کی طرح ...

    مزید پڑھیے

    گداز تک ہی خرابی ہنر سنبھالے گا

    گداز تک ہی خرابی ہنر سنبھالے گا یہ خاک سوختہ کب کوزہ گر سنبھالے گا خطر پذیر ہوں اس بے دلی میں گریہ بھیج یہ زلزلہ ہی مرے بام و در سنبھالے گا تو ہی تو اک صدف دل کی آبرو ہے مگر یہ آب کتنے دنوں تک گہر سنبھالے گا یہ دیکھنا ہے کہ طوفان ریگ زار میں تو زمام سمت کہ زاد سفر سنبھالے ...

    مزید پڑھیے

    رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی

    رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی یوں ہی مرے جینے کا سبب ہے بھی نہیں بھی پہنچا ہے ترے مہر سے قطبین کا موسم دن تھا تو نہیں بھی تھا یہ شب ہے بھی نہیں بھی فریاد نے سیکھی ہے تری وضع تبسم اس رخ سے کہ شرمندۂ لب ہے بھی نہیں بھی حیرت کدۂ دہر ہے اک خواب کا عالم دیکھا جو اس عالم میں ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا کہ چلے جاتے تھے سب شوق کے مارے

    دیکھا کہ چلے جاتے تھے سب شوق کے مارے معشوق کے پہلو میں شب ہجر گزارے ہم ہیں کہ ہوئے حلقۂ زنجیر محبت باقی تو گئے چھوٹ گرفتار تمہارے ہم چاہنے والوں کا نہیں کوئی ٹھکانا ہیں آج سر نجد تو کل تخت ہزارے آ پہنچے کہاں جستجوئے یار میں اس بار مل جائے تو چل بھی نہ سکے ساتھ ہمارے ساکن ہو ...

    مزید پڑھیے

    اس بے خودی میں رخصت خودداری ہو گئی ہے

    اس بے خودی میں رخصت خودداری ہو گئی ہے مشکل ہوئی جو آساں دشواری ہو گئی ہے اک داغ دل پہ بھی اب اپنا نہیں تصرف یہ سب زمین گویا سرکاری ہو گئی ہے اس بوجھ کی نہ پوچھو گٹھری ہے دل یہ جس کو جتنا کیا ہے ہلکا کچھ بھاری ہو گئی ہے شکوہ نہیں ستم کا پر اب یہ دیکھتا ہوں تم کو ستم گری کی بیماری ...

    مزید پڑھیے

    سسک لیتے ہیں گاہے نالہ و زاری نہیں کرتے

    سسک لیتے ہیں گاہے نالہ و زاری نہیں کرتے محبت جن کو ہوتی ہے اداکاری نہیں کرتے کسے بتلائیں ہم کیوں اس کی محفل میں نہیں جاتے حضوری جن کو حاصل ہو وہ درباری نہیں کرتے ہنر رکھتے ہو سونے ناخنوں کو کچھ تو زینت دو کبھی کیوں آ کے میرے دل پہ گلکاری نہیں کرتے مری چاہت کو ہنس کر کہہ دیا ...

    مزید پڑھیے

    اک نشتر نگاہ ہے اس سے زیادہ کیا

    اک نشتر نگاہ ہے اس سے زیادہ کیا دم بھر کی آہ آہ ہے اس سے زیادہ کیا گردن سے طوق خوف و طلب کو نکال دیکھ پھر کوئی بادشاہ ہے اس سے زیادہ کیا طاقت اگر ہے پاؤں میں صحرا کا خوف کیوں بس اک کشادہ راہ ہے اس سے زیادہ کیا وہ تو ہوا تھی بند نہ مٹھی میں ہو سکی اب رنج خواہ مخواہ ہے اس سے زیادہ ...

    مزید پڑھیے

    چاہنا یہ ہے جو ہم دل زدگاں چاہتے ہیں

    چاہنا یہ ہے جو ہم دل زدگاں چاہتے ہیں نفع مطلوب ہے ایسا کہ زیاں چاہتے ہیں لطف یک جرعہ سے ایسے میں بنے گا کیا کام دور اول میں تو ہم رطل گراں چاہتے ہیں چاہتے ہیں جو وہ ہوتا نہیں ہم سے بے عذر اور بے عذر جو ہوتا ہے کہاں چاہتے ہیں کاوش عقل سے کھلتے نہیں دل کے عقدے یہ تو وہ گل ہیں جو ...

    مزید پڑھیے

    ہونے کو اب کیا دیکھیے کیا کچھ ہے اور کیا کچھ نہیں

    ہونے کو اب کیا دیکھیے کیا کچھ ہے اور کیا کچھ نہیں منظر ابھی ہے سامنے وہ بھی کہ جب تھا کچھ نہیں اس کی حنا پر وار دے فی الفور دل کی سلطنت پیارے کسی کے ہاتھ میں تا دیر رہتا کچھ نہیں مت جان دل کے سامنے کافی ہے اک چہرہ ترا ایسے اندھیرے کے لئے اتنا اجالا کچھ نہیں کتنے گھروندے ریت کے ...

    مزید پڑھیے

    یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں

    یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں ٹوٹے ہیں مرے پاؤں اسی راہ گزر میں رم جھم کے عقب زار میں باراں ہے ابھی آگ اچھا ہے نہ دیکھے وہ مرے دیدۂ تر میں سرمایۂ جاں یوں نہ اٹھا سارے حجابات تو آنکھ کے پردوں کی بدولت ہے نظر میں آنسو تھا وہ نکلا تو گیا توڑ کے ہر بند خوشبو تھا کہ گھر چھوڑ کے بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3