Mohammad Aazam

محمد اعظم

نئی غزل کے ممتاز شاعر

محمد اعظم کے تمام مواد

27 غزل (Ghazal)

    اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے

    اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے باقی جو تعلق ہے وہ تہمت کی طرح ہے کیا جانئے کس لمحہ یہ ہاتھوں سے پھسل جائے اک رشتہ جو نادار کی غیرت کی طرح ہے دیکھوں تو سہی ہوتی ہے کیا وصل کی توسیع اب ہجر ترا میری ضرورت کی طرح ہے اک سبز سا نقطہ یہ بتاتا ہے کہ ہے وہ اب اس سے ملاقات علامت کی طرح ...

    مزید پڑھیے

    گداز تک ہی خرابی ہنر سنبھالے گا

    گداز تک ہی خرابی ہنر سنبھالے گا یہ خاک سوختہ کب کوزہ گر سنبھالے گا خطر پذیر ہوں اس بے دلی میں گریہ بھیج یہ زلزلہ ہی مرے بام و در سنبھالے گا تو ہی تو اک صدف دل کی آبرو ہے مگر یہ آب کتنے دنوں تک گہر سنبھالے گا یہ دیکھنا ہے کہ طوفان ریگ زار میں تو زمام سمت کہ زاد سفر سنبھالے ...

    مزید پڑھیے

    رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی

    رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی یوں ہی مرے جینے کا سبب ہے بھی نہیں بھی پہنچا ہے ترے مہر سے قطبین کا موسم دن تھا تو نہیں بھی تھا یہ شب ہے بھی نہیں بھی فریاد نے سیکھی ہے تری وضع تبسم اس رخ سے کہ شرمندۂ لب ہے بھی نہیں بھی حیرت کدۂ دہر ہے اک خواب کا عالم دیکھا جو اس عالم میں ...

    مزید پڑھیے

    دیکھا کہ چلے جاتے تھے سب شوق کے مارے

    دیکھا کہ چلے جاتے تھے سب شوق کے مارے معشوق کے پہلو میں شب ہجر گزارے ہم ہیں کہ ہوئے حلقۂ زنجیر محبت باقی تو گئے چھوٹ گرفتار تمہارے ہم چاہنے والوں کا نہیں کوئی ٹھکانا ہیں آج سر نجد تو کل تخت ہزارے آ پہنچے کہاں جستجوئے یار میں اس بار مل جائے تو چل بھی نہ سکے ساتھ ہمارے ساکن ہو ...

    مزید پڑھیے

    اس بے خودی میں رخصت خودداری ہو گئی ہے

    اس بے خودی میں رخصت خودداری ہو گئی ہے مشکل ہوئی جو آساں دشواری ہو گئی ہے اک داغ دل پہ بھی اب اپنا نہیں تصرف یہ سب زمین گویا سرکاری ہو گئی ہے اس بوجھ کی نہ پوچھو گٹھری ہے دل یہ جس کو جتنا کیا ہے ہلکا کچھ بھاری ہو گئی ہے شکوہ نہیں ستم کا پر اب یہ دیکھتا ہوں تم کو ستم گری کی بیماری ...

    مزید پڑھیے

تمام

8 نظم (Nazm)

    نظم

    وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے

    مزید پڑھیے

    سچے موتی

    بازار میں نقلی موتیوں کی بہتات ہے تو کیا ہوا تم سچے موتیوں کا بھاؤ نہ گراؤ کسی کے آنسوؤں کا مذاق نہ اڑاؤ خواہ وہ خیر جانے دو کون جانے کب کوئی سچ مچ رو رہا ہو

    مزید پڑھیے

    تلاش فریب مطلق کی

    فاحشہ عورتو کیا کوئی تم میں ایسا نہیں جو مجھے اس طرح چھل سکے میں نشاط گماں کے سرور عجب جاوداں کو لئے نرم آغوش سے سخت آغوش تک ایک برحق سفر کروں فاحشہ عورتو وہ قریب مسلسل کی دولت کہاں سے ملے کیا کوئی تم میں ایسا نہیں مجھ سے جو جھوٹ کو سونگھ لینے کی خو چھین لے جستجو چھین لے

    مزید پڑھیے

    کھوٹے سکے

    کہتے ہیں کھوٹے سکے بازار میں ہمیشہ نہیں چلتے ہم دیکھتے ہیں کھوٹے سکے ہمیشہ بازار میں چلتے رہتے ہیں کھوٹے سکوں کے لئے ہمیشگی کی تعریف شاید مختلف ہے

    مزید پڑھیے

    با خبری

    سکوت آب میں اک بے خبر مچھلی کسی بے مہر کانٹے کو نگل کر جوں ہی سطح آب سے ادھر اٹھ آتی ہے تڑپتی ہے تو اس کے ساتھ کی ہر با خبر مچھلی سمجھتی ہے کہ اس کے ایک ساتھی کو کسی دیوانگی نے آ دبوچا ہے

    مزید پڑھیے

تمام