اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے
اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے باقی جو تعلق ہے وہ تہمت کی طرح ہے کیا جانئے کس لمحہ یہ ہاتھوں سے پھسل جائے اک رشتہ جو نادار کی غیرت کی طرح ہے دیکھوں تو سہی ہوتی ہے کیا وصل کی توسیع اب ہجر ترا میری ضرورت کی طرح ہے اک سبز سا نقطہ یہ بتاتا ہے کہ ہے وہ اب اس سے ملاقات علامت کی طرح ...