نظم محمد اعظم 07 ستمبر 2020 شیئر کریں وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے