نظم

وہ سب
بھیڑیے ہیں
مگر
جانتے بوجھتے
غول در غول بھیڑیں
خون اپنا پلانے انہیں
جا رہی ہیں تو جائیں


شب ہی انہیں روکنا ہے
یہ منظر مجھے دیکھنا ہے
یہ کیسا مزا ہے