Mohammad Aazam

محمد اعظم

نئی غزل کے ممتاز شاعر

محمد اعظم کی غزل

    گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر ہی نہیں

    گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں مہاجرت کے لئے شرط اب سفر بھی نہیں اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں وہ اک کتاب گئی تھی دلوں سے طاقوں پر اب ایسی دور ہوئی ہے کہ طاق ...

    مزید پڑھیے

    ہم آدم زاد جو ہیں روز اول سے کمی ہے یہ

    ہم آدم زاد جو ہیں روز اول سے کمی ہے یہ کہ جو ہے موت اس کو جانتے ہیں زندگی ہے یہ جو منظر ہے سو آ کر مختلف ہے سب کی آنکھوں میں پھر آنکھیں دیکھتی ہیں کیا تماشا دیدنی ہے یہ یہاں دشت طلب میں ایک میں ہوں اور سوا میرے سرابوں کو نچوڑے جا رہی اک تشنگی ہے یہ اندھیرے دل نے کی تھی آرزو اس کے ...

    مزید پڑھیے

    سب ہے زیر بحث جو ظاہر ہے یا پوشیدہ ہے

    سب ہے زیر بحث جو ظاہر ہے یا پوشیدہ ہے اور نظر سے اپنی پردہ آنکھ کا بوسیدہ ہے جب ملے طومار آگاہی سے فرصت دیکھنا کن تہوں میں رمز عقل نارسا پوشیدہ ہے کون سا آنسو ہو مقبول بنا گوش قبول کس صدف کو کیا خبر ہے اس میں کیا پوشیدہ ہے بے اماں اس درجہ وحشت خیز ہے سعئ جنوں یک جہاں صحرا ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    ہنسی میں ٹال رہے ہو تم اس کے رونے کو

    ہنسی میں ٹال رہے ہو تم اس کے رونے کو نہ دیکھتا ہو وہ ہونے سے پہلے ہونے کو سلام بھوک کو ان کی کرو جنہوں نے کبھی بچائے رکھا تھا تھوڑا اناج بونے کو دئے گئے ہیں خزانے انہی کو عہد بہ عہد رہا تھا کچھ بھی نہیں جن کے پاس کھونے کو غلط نہیں کہ لگاتی ہیں پار موجیں بھی جو جانتی ہیں فقط ڈوبنے ...

    مزید پڑھیے

    مقابل بے مروت آئنہ ہونے نہیں دیتا

    مقابل بے مروت آئنہ ہونے نہیں دیتا کوئی اب خود سے اپنا سامنا ہونے نہیں دیتا بہت جھک جھک کے چلتا ہوں میں ان بونوں کی بستی میں یہ چھوٹا پن کبھی مجھ کو بڑا ہونے نہیں دیتا کشاکش یہ عجب اک عشق کی جاری ہے صدیوں سے فدا ہوتا ہوں میں اور وہ فنا ہونے نہیں دیتا وہی جانے کہاں پہنچائے گا ...

    مزید پڑھیے

    سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے

    سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہم زاد کرتا ہے بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈھتی ہیں ہر طرف آنکھیں جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے قیامت ہے جو اب یہ خفتگان خاک ...

    مزید پڑھیے

    اگر نہ مانیں نہ سمجھو کہ جانتے ہی نہیں

    اگر نہ مانیں نہ سمجھو کہ جانتے ہی نہیں ضدوں کی بات بھی ہے کچھ مغالطے ہی نہیں مطالبات محبت ہیں میں ہوں اور تم ہو عجیب ہے یہ مثلث کہ زاویے ہی نہیں مرے جنوں کے بھروسے پہ کہہ دیا اس نے ہم آئے آپ کے گھر پر تو آپ تھے ہی نہیں بیاض دل کی کریں تو کریں کہاں اصلاح کتابت ایسی ہوئی ہے کہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3