چاہنا یہ ہے جو ہم دل زدگاں چاہتے ہیں

چاہنا یہ ہے جو ہم دل زدگاں چاہتے ہیں
نفع مطلوب ہے ایسا کہ زیاں چاہتے ہیں


لطف یک جرعہ سے ایسے میں بنے گا کیا کام
دور اول میں تو ہم رطل گراں چاہتے ہیں


چاہتے ہیں جو وہ ہوتا نہیں ہم سے بے عذر
اور بے عذر جو ہوتا ہے کہاں چاہتے ہیں


کاوش عقل سے کھلتے نہیں دل کے عقدے
یہ تو وہ گل ہیں جو کھلتے ہیں جہاں چاہتے ہیں


صبح کاذب ہیں سیہ دل یہ صبیحان سواد
ہم ہی سادہ ہیں کہ اس وقت اذاں چاہتے ہیں