Mohammad Aazam

محمد اعظم

نئی غزل کے ممتاز شاعر

محمد اعظم کی غزل

    وہی مدار تمنا وہی ستارۂ دل

    وہی مدار تمنا وہی ستارۂ دل فریب خوردۂ ماضی و حال و مستقبل طلسم خانۂ حسرت میں گردشیں کب تک وہ اسم دے کہ ہو آسیب جستجو باطل دل کشادہ میں میرے ہو انجمن آرا عدو برنگ کدورت جہاں نہ ہو داخل ہزار شعلہ لپکتی ہے آرزو اب بھی مرے لہو سے چراغاں ہے کوچۂ قاتل رہ وفا کے مسافر کی بے بسی مت ...

    مزید پڑھیے

    گراں تھا متن مشکل اور بھی تعبیر پڑھ لینا

    گراں تھا متن مشکل اور بھی تعبیر پڑھ لینا تو آساں کر لیا دل خواہ اک تفسیر پڑھ لینا گزشتہ شب اشاروں سے لکھا کچھ چاند پر میں نے تمہیں معلوم ہوگا پھر بھی وہ تحریر پڑھ لینا مہارت ہو گئی چہروں کو پڑھ پڑھ کر ہمیں اتنی کہ اب آساں ہے چہرہ کی جگہ تصویر پڑھ لینا ملائم انگلیوں کی ہر عبارت ...

    مزید پڑھیے

    کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں

    کہتا ہوں میں کہ غیر نے ہرگز کہا نہیں تجھ کو نہ ہو قبول جو میری دعا نہیں ان پانیوں کسی کو ڈبوئے نہ شرم شوق میں آب آب اس کی طرف دیکھتا نہیں سو رخ سے چومتا ہے ترا پیرہن خیال سب میں ہوں میری جان یہ موج ہوا نہیں حیراں کھڑا ہوں وصل وجدائی کے درمیاں میں کس شمار میں ہوں اگر آئینہ ...

    مزید پڑھیے

    حبس تعلقات میں دور نہ جا ادھر ادھر

    حبس تعلقات میں دور نہ جا ادھر ادھر غیر ہوا نہیں کہ بس چوم لیا ادھر ادھر دیکھ رہی ہے کشت دل اشکوں کی بے وفائیاں اب کے برس برس گئی ساری گھٹا ادھر ادھر جان مری شکست سے شور ترا ہے ہر طرف ساتھ مرے بکھر گئی میری نوا ادھر ادھر دل کو مرے ترا یہ شوق تجھ سے بھی تھا عزیز تر تیری گلی کے آس ...

    مزید پڑھیے

    محبت چاہتی ہے جس کو افسانہ بنا دینا

    محبت چاہتی ہے جس کو افسانہ بنا دینا اسے کافی نہیں ہوتا ہے دیوانہ بنا دینا پر گل سے جدا ہم نے نہ دیکھا برگ بلبل کو نظر میں آ گیا صورت کو بے معنیٰ بنا دینا ہوا تھا دل جو خالی دو گھڑی کو ہم نہ سمجھے تھے کہ ہو جائے گا یہ کعبے کو بت خانہ بنا دینا کسی نے بھی نہ دیکھا اضطراب تشنگی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ غرض ہم کو نہیں ہے کہ کہاں لے جائے

    کچھ غرض ہم کو نہیں ہے کہ کہاں لے جائے چل دئے بس دل دیوانہ جہاں لے جائے وہ گلی خلد سے بہتر ہے بس اتنا سن کر کوئی واقف ہو تو ہم کو بھی وہاں لے جائے میری آواز ہوئی جاتی ہے اس کی آواز اب ہے کیا دور کہ اس تک یہ فغاں لے جائے موج سرکش کو خبردار کیا تھا ہم نے اس کو جانا تھا جہاں جوئے رواں ...

    مزید پڑھیے

    تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو

    تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو تڑپ رہی ہے ہر طرف لہولہان آرزو پھرا کے دیدۂ تپاں میں موم کے مجسمے کہاں کہاں کرے گی دید کا زیان آرزو ذرا سا ہاتھ کیا لگا حباب سا بکھر گیا جسے سمجھ رہی تھی ایک آسمان آرزو تو چشم ہی میں رہ اگر پسند ہے کشادگی کہ دل ہے تنگ اور اس میں یک جہان ...

    مزید پڑھیے

    اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے

    اس سے مل کر بھی خلش دل میں رہا کرتی ہے وصل کو ہجر سے کیا چیز جدا کرتی ہے وہ نہ مانے گا پہ ہر شب کوئی موہوم سی آس اک دیا بن کے در دل پہ جلا کرتی ہے اوج اوسان پہ چڑھ چڑھ کے محبت کی شراب جب اترتی ہے تو کچھ اور نشہ کرتی ہے تجھ میں کیا بات ہے اے دل کہ وفا کیش یہ عقل میری باندی ہے مگر کام ...

    مزید پڑھیے

    خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں

    خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں کسی کو یار اس درجہ بھی تنہا چھوڑ دیتے ہیں سمجھتے ہی نہیں ہیں لوگ نا سمجھی کی مشکل کو سہولت دیکھتے ہیں اور سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں یہ ہم بھی جانتے ہیں ملک گیری شوق ہے بیجا مگر ہم جیت کر فوراً علاقہ چھوڑ دیتے ہیں ترے دو گھونٹ پی کر تشنگی ...

    مزید پڑھیے

    کمان سونپ کے دشمن کو اپنے لشکر کی

    کمان سونپ کے دشمن کو اپنے لشکر کی کہا کہ فتح و ظفر بات ہے مقدر کی بلاوا لائی ہوائے بہشت پھر اک بار طیور جانچ کرو اپنے اپنے شہ پر کی چلو رکھ آئیں وہاں ہم بھی اپنے سر کا گلاب سنا ہے بہتوں نے اس کی گلی معطر کی پتہ چلا کہ وہی ہے نصاب سے باہر مشقتوں سے جو میں نے کتاب ازبر کی بجز ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3