اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے
اک شغل شب ہجر کی زینت کی طرح ہے
باقی جو تعلق ہے وہ تہمت کی طرح ہے
کیا جانئے کس لمحہ یہ ہاتھوں سے پھسل جائے
اک رشتہ جو نادار کی غیرت کی طرح ہے
دیکھوں تو سہی ہوتی ہے کیا وصل کی توسیع
اب ہجر ترا میری ضرورت کی طرح ہے
اک سبز سا نقطہ یہ بتاتا ہے کہ ہے وہ
اب اس سے ملاقات علامت کی طرح ہے
اک صورت موہوم کہ زندہ ہے نہ مردہ
دیکھو تو زمانے میں قیامت کی طرح ہے
لینے کو ہیں انگڑائی یہ خوابیدہ و پامال
جو سنگ یہاں ہے وہ عمارت کی طرح ہے
آگاہ کہ گلزار ہے اک آتش نمرود
باقی جو ہے شداد کی جنت کی طرح ہے
ہے صد قلم گل سے چمن زار صحیفہ
اور جنبش گلبرگ تلاوت کی طرح ہے
کم معرکۂ زیست نہیں جنگ احد سے
اسباب جہاں مال غنیمت کی طرح ہے
کیا کہئے کہ خود غرق رہے اس میں گلے تک
کہتے ہوئے دنیا یہ نجاست کی طرح ہے