مدحت الاختر کی غزل

    نقش دل سے نہ مٹا ذرہ برابر اس کا

    نقش دل سے نہ مٹا ذرہ برابر اس کا ثبت ہے آج بھی دیوار پہ پیکر اس کا میں نے ساحل سے اسے ڈوبتے دیکھا تھا فقط مجھے غرقاب کرے گا یہی منظر اس کا عکس بھی دیدۂ قاتل میں لہو بن کے رہا قتل ہو کر بھی جما رنگ برابر اس کا کرب تنہائی ذرا روح سے نکلے تو سہی منتظر ہے کوئی اس دشت کے باہر اس کا جا ...

    مزید پڑھیے

    میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی

    میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی تھی قوت پرواز بھی اور خوف قضا بھی میں اپنے ہی زندان طلسمی کا زبوں تھا ہر چند تری شعبدہ کاری سے بچا بھی لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی پا بستۂ زنجیر ہوا چھوٹ گئے ہیں موقوف ہوا سلسلۂ قتل نوا ...

    مزید پڑھیے

    تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے

    تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے نہیں معلوم تو ہے یا نہیں ہے سبھی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوں کوئی تجھ کو ابھی سمجھا نہیں ہے قدم کیوں آگے بڑھتے جا رہے ہیں اگر یہ راستہ گھر کا نہیں ہے بہت کم لوگ ہیں پہچان والے یہاں ہر جسم میں چہرہ نہیں ہے کہاں ہوں گے ہمارے خواب پورے یہاں جنت وہاں ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں

    تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں دشت بے چارے سمندر کے تلے دب گئے ہیں کوچ کرنے کی گھڑی ہے مگر اے ہم سفرو ہم ادھر جا نہیں سکتے جدھر سب گئے ہیں غیر شائستۂ آداب محبت نہ سہی ہم ترے ہجر کے آزار میں مر کب گئے ہیں اب کوئی عکس ہے سالم نہ کسی کا چہرہ آئینہ خانے میں کیا دیکھنے صاحب گئے ...

    مزید پڑھیے

    حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے

    حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے یہاں ہنسنا ہے کم رونا بہت ہے جھلکتا ہے تری ہر بات سے سچ ترا لہجہ ابھی کچا بہت ہے درختوں کی طرف مڑ کر نہ دیکھو ابھی تو دھوپ میں چلنا بہت ہے کسی کو دشت میں شہرت ملی تھی ہمارا شہر میں چرچا بہت ہے کوئی ہنس کر ملے دو بات کر لے ہمارے دور میں اتنا بہت ہے

    مزید پڑھیے

    صبح میں سو کر اٹھا کھایا پیا کل کی طرح

    صبح میں سو کر اٹھا کھایا پیا کل کی طرح زندگی پیاری تھی مجھ کو جی لیا کل کی طرح جو ملا ہنس کر ملے اس سے خدا حافظ کہا آج بھی جاری رہی مشق ریا کل کی طرح ہم نے اپنے جی میں ٹھانی اور یہ کہتے ہوئے جو نہ کرنا تھا وہی سب کر لیا کل کی طرح آج بھی کہتے ہیں مجھ کو لوگ اچھا آدمی آج بھی بن کر رہا ...

    مزید پڑھیے

    خاکساری کیجئے یا شہریاری کیجیے

    خاکساری کیجئے یا شہریاری کیجیے ہم غریبوں میں کچھ اپنا فیض جاری کیجیے جن سے کچھ حاصل نہیں تعبیر خواہی کے سوا ایسے خوابوں میں بسر کیوں رات ساری کیجیے جو ہمارا حال ہے اس سے الگ ان کا نہیں ساکنان شہر سے کیا پردہ داری کیجیے آپ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں معلوم ہے پیار کر سکتے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    میں روز ایک نئی داستاں بناؤں گا

    میں روز ایک نئی داستاں بناؤں گا پھر اس کے بعد خموشی میں ڈوب جاؤں گا سکوں ملے مجھے مٹی کی کوکھ میں شاید میں مر گیا تو کبھی لوٹ کر نہ آؤں گا وہ ڈور ہے تو مرے ہاتھ میں رہے گی سدا پتنگ ہے تو ہوا میں اسے اڑاؤں گا جدا جدا ہیں لکیریں سبھی کے ہاتھوں کی ہجوم میں بھی اکیلا ہی خود کو پاؤں ...

    مزید پڑھیے

    دشت سے میں جو اپنے گھر آیا

    دشت سے میں جو اپنے گھر آیا میرے دل میں خدا اتر آیا جس کی قیمت نہ دے سکا کوئی میرے حصے میں وہ گہر آیا ساری دنیا ہے راہ پر میری جب سے میں تیری راہ پر آیا کتنے پتھر ہیں سامنے لیکن بت گری کا کسے ہنر آیا کس نے دنیا کو زندگی دے دی موت کا دل بھی آج بھر آیا پھر در و بام ہو گئے رنگیں پھر ...

    مزید پڑھیے

    نہ سود ہے نہ زیاں حاصل وفا کیا ہے

    نہ سود ہے نہ زیاں حاصل وفا کیا ہے وفا پرست نہ میں ہوں نہ وہ برا کیا ہے کوئی کسی کو بتاتا نہیں ہوا کیا ہے چلو انہیں سے یہ پوچھیں کہ ماجرا کیا ہے وہی ہے روح وہی جسم کچھ نہیں بدلا خیال میں نہیں آتا کہ پھر نیا کیا ہے میں اپنے آپ سے مایوس تو نہیں لیکن جو عکس ہی نہ دکھائے وہ آئینہ کیا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3