مدحت الاختر کی غزل

    میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں

    میں تو اپنے آپ کو پہچاننا ہی چاہتا ہوں جانتا جو کچھ نہیں وہ جاننا ہی چاہتا ہوں سو فرشتے لے کے میرے پاس آئیں جو صحیفہ اس کو اپنی چھلنیوں میں چھاننا ہی چاہتا ہوں سیکڑوں سورج کھڑے ہیں آئینہ در دست لیکن سر پہ ظلمت کی ردا میں تاننا ہی چاہتا ہوں جو مرے موجود میں ہے اور لا موجود ...

    مزید پڑھیے

    میں نے جو کچھ کھو دیا اب اس کو پا سکتا نہیں

    میں نے جو کچھ کھو دیا اب اس کو پا سکتا نہیں دل سے یہ احساس بھی لیکن مٹا سکتا نہیں وہ کنار آب بیٹھے چاند اگتے دیکھنا جھیل کی تہ سے وہ منظر اب اگا سکتا نہیں سب در و دیوار اس کے لمس کے مقروض ہیں اپنے گھر سے اس کی تصویریں مٹا سکتا نہیں مت ملو اس سے تمہاری بات میں نے مان لی اس کے غم میں ...

    مزید پڑھیے

    جس راستے پہ پانو رکھا اس سے جا ملا

    جس راستے پہ پانو رکھا اس سے جا ملا دنیا سے جب گریز کیا بھی تو کیا ملا میرے سوا کسی سے نہ ملتا تھا وہ کبھی میری ہی ضد میں ہر کس و ناکس سے جا ملا ملتی مجھے نہ صحبت نا جنس کی سزا دنیا کو خوب میرا سراغ فنا ملا چاروں طرف بہار کے آثار تھے مگر نقش نمونہ سبزۂ بیگانہ کا ملا

    مزید پڑھیے

    جو کل نہ تھا وہ آج ہے اے ہم شبیہ من

    جو کل نہ تھا وہ آج ہے اے ہم شبیہ من اب اس کا کیا علاج ہے اے ہم شبیہ من آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی تس پہ بے حسی یہ کیسا امتزاج ہے اے ہم شبیہ من ہنس کے ملو ہر ایک سے جس حال میں ملو اس شہر کا رواج ہے اے ہم شبیہ من دیکھا ہے کوئی خواب عزیزان شہر نے کے سال کا اناج ہے اے ہم شبیہ من سب لوگ ...

    مزید پڑھیے

    میں تو سایہ ہوں گھٹاؤں سے اترنے والا

    میں تو سایہ ہوں گھٹاؤں سے اترنے والا ہے کوئی پیاس کے صحرا سے گزرنے والا تو سمجھتا ہے مجھے حرف مکرر لیکن میں صحیفہ ہوں ترے دل پہ اترنے والا تو مجھے اپنی ہی آواز کا پابند نہ کر میں تو نغمہ ہوں فضاؤں میں بکھرنے والا اے بدلتے ہوئے موسم کے گریزاں پیکر عکس دے جا کوئی آنکھوں میں ...

    مزید پڑھیے

    ہنر دیا بھی نہیں لے لیا انگوٹھا بھی

    ہنر دیا بھی نہیں لے لیا انگوٹھا بھی بڑے کمال کی فن کار ہے یہ دنیا بھی ہزار عالم حیرت کروں نثار اس پر نظر تو آئے کوئی چہرہ آئینہ سا بھی میں اپنی راہ کی دیوار خود بناتا ہوں مرا وجود مجھے اینٹ بھی ہے گارا بھی بلا رہا ہوں سبھی کو کہ میرے ساتھ آئیں نہ آیا کوئی تو میں چل پڑوں گا تنہا ...

    مزید پڑھیے

    شاید مری فریاد سنائی نہیں دیتی

    شاید مری فریاد سنائی نہیں دیتی قدرت جو مجھے حکم رہائی نہیں دیتی تھا پہلے بہت شور نہاں خانۂ دل میں اب تو کوئی سسکی بھی سنائی نہیں دیتی خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے چلتی ہے دکاں خوب کمائی نہیں دیتی ہر تار نفس ہے متحرک متواتر رخصت ہی مجھے نغمہ سرائی نہیں دیتی کیا دھند ہے ...

    مزید پڑھیے

    اب نہ وہ شاخ ہے نہ پتھر ہے

    اب نہ وہ شاخ ہے نہ پتھر ہے کب سے جنگل میں کوئی بے گھر ہے کوئی سایہ نظر نہیں آتا جب سے آنکھوں میں ایک پیکر ہے ہاں کبھی گھومتی رہی ہوگی اب زمیں بے نیاز محور ہے زہر پینے کوئی نہیں آتا کتنا بے تاب یہ سمندر ہے روٹھ کر چل دیے نئے راہی سر جھکائے کھڑا صنوبر ہے مڑ کے دیکھو تو سنگ ہو ...

    مزید پڑھیے

    وہی زمین وہی دور آسمانوں کے

    وہی زمین وہی دور آسمانوں کے دنوں کی بات نہیں کھیل ہیں زمانوں کے دیا سلائی کی تیلی بھی اب ڈراتی ہے نظارے یاد ہیں جلتے ہوئے مکانوں کے ہمارے پاؤں کی زنجیر بنتے جاتے ہیں سجے سجائے ہوئے سلسلے دکانوں کے زمین بال برابر نہیں ہمارے نام بناتے رہتے ہیں نقشے نئے مکانوں کے اداس کر گیا وہ ...

    مزید پڑھیے

    تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا

    تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا میں اپنی زندگی سے خفا اب نہیں رہا پہلے مری نگاہ میں دنیا حقیر تھی میں اپنے ساتھیوں سے جدا اب نہیں رہا اب بھی اسی درخت کے نیچے ملیں گے ہم سایہ اگرچہ اس کا گھنا اب نہیں رہا تیرے قدم نے جان کہانی میں ڈال دی قصہ ہمارا بے سر و پا اب نہیں رہا اب میری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3