تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے

تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے
نہیں معلوم تو ہے یا نہیں ہے


سبھی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوں
کوئی تجھ کو ابھی سمجھا نہیں ہے


قدم کیوں آگے بڑھتے جا رہے ہیں
اگر یہ راستہ گھر کا نہیں ہے


بہت کم لوگ ہیں پہچان والے
یہاں ہر جسم میں چہرہ نہیں ہے


کہاں ہوں گے ہمارے خواب پورے
یہاں جنت وہاں دنیا نہیں ہے


جو اپنے شہر کو جنت بنا دے
کوئی اس شہر میں ایسا نہیں ہے


ملے ہیں بارہا مدحت سے ہم بھی
وہ اچھا ہے مگر اتنا نہیں ہے