حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے

حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے
یہاں ہنسنا ہے کم رونا بہت ہے


جھلکتا ہے تری ہر بات سے سچ
ترا لہجہ ابھی کچا بہت ہے


درختوں کی طرف مڑ کر نہ دیکھو
ابھی تو دھوپ میں چلنا بہت ہے


کسی کو دشت میں شہرت ملی تھی
ہمارا شہر میں چرچا بہت ہے


کوئی ہنس کر ملے دو بات کر لے
ہمارے دور میں اتنا بہت ہے