مدحت الاختر کے تمام مواد

24 غزل (Ghazal)

    نقش دل سے نہ مٹا ذرہ برابر اس کا

    نقش دل سے نہ مٹا ذرہ برابر اس کا ثبت ہے آج بھی دیوار پہ پیکر اس کا میں نے ساحل سے اسے ڈوبتے دیکھا تھا فقط مجھے غرقاب کرے گا یہی منظر اس کا عکس بھی دیدۂ قاتل میں لہو بن کے رہا قتل ہو کر بھی جما رنگ برابر اس کا کرب تنہائی ذرا روح سے نکلے تو سہی منتظر ہے کوئی اس دشت کے باہر اس کا جا ...

    مزید پڑھیے

    میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی

    میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی تھی قوت پرواز بھی اور خوف قضا بھی میں اپنے ہی زندان طلسمی کا زبوں تھا ہر چند تری شعبدہ کاری سے بچا بھی لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی پا بستۂ زنجیر ہوا چھوٹ گئے ہیں موقوف ہوا سلسلۂ قتل نوا ...

    مزید پڑھیے

    تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے

    تجھے پا کر کبھی دیکھا نہیں ہے نہیں معلوم تو ہے یا نہیں ہے سبھی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوں کوئی تجھ کو ابھی سمجھا نہیں ہے قدم کیوں آگے بڑھتے جا رہے ہیں اگر یہ راستہ گھر کا نہیں ہے بہت کم لوگ ہیں پہچان والے یہاں ہر جسم میں چہرہ نہیں ہے کہاں ہوں گے ہمارے خواب پورے یہاں جنت وہاں ...

    مزید پڑھیے

    تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں

    تشنگی اپنی بجھانے کے لیے جب گئے ہیں دشت بے چارے سمندر کے تلے دب گئے ہیں کوچ کرنے کی گھڑی ہے مگر اے ہم سفرو ہم ادھر جا نہیں سکتے جدھر سب گئے ہیں غیر شائستۂ آداب محبت نہ سہی ہم ترے ہجر کے آزار میں مر کب گئے ہیں اب کوئی عکس ہے سالم نہ کسی کا چہرہ آئینہ خانے میں کیا دیکھنے صاحب گئے ...

    مزید پڑھیے

    حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے

    حساب بیش و کم سیدھا بہت ہے یہاں ہنسنا ہے کم رونا بہت ہے جھلکتا ہے تری ہر بات سے سچ ترا لہجہ ابھی کچا بہت ہے درختوں کی طرف مڑ کر نہ دیکھو ابھی تو دھوپ میں چلنا بہت ہے کسی کو دشت میں شہرت ملی تھی ہمارا شہر میں چرچا بہت ہے کوئی ہنس کر ملے دو بات کر لے ہمارے دور میں اتنا بہت ہے

    مزید پڑھیے

تمام