مدحت الاختر کی غزل

    دیو قامت بنا ہوا گھوموں

    دیو قامت بنا ہوا گھوموں اپنے قد کو مگر چھپا نہ سکوں وہ بھی پہچانتا نہیں ہے مجھے میں بھی اپنی نظر کو جھٹلا دوں ہٹ گیا ہوں مدار سے اپنے اب میں یوں ہی خلا میں پھرتا ہوں ٹیلی ویژن پہ ایک چہرہ ہے کم سے کم اس کو دیکھ سکتا ہوں کب سے سوکھی پڑی ہے یہ دھرتی میں کسی کے لہو کا پیاسا ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا تھا وہ فسوں جو کیا کیا میں نے

    کسی کا تھا وہ فسوں جو کیا کیا میں نے وہ ہوش تھا کہ جنوں جو کیا کیا میں نے جو ہو چکا وہی کافی ہے دل دکھانے کو اب اور کچھ نہ کروں جو کیا کیا میں نے مرے وجود میں شامل رہے ہیں کتنے وجود تو پھر یہ کیسے کہوں جو کیا کیا میں نے ہر اک سوال پہ کتنوں کے نام نکلیں گے کوئی جواب نہ دوں جو کیا کیا ...

    مزید پڑھیے

    وہاں کرتا رہوں گا اب یہاں کرتا رہوں گا

    وہاں کرتا رہوں گا اب یہاں کرتا رہوں گا رہوں گا میں جہاں بے تابیاں کرتا رہوں گا کبھی میں آسمانوں کو زمیں پر لاد دوں گا کبھی اپنی زمیں کو آسماں کرتا رہوں گا ملی ہے زندگی مجھ کو تو کچھ کرنا ہی ہوگا یقیں کرتا رہوں گا یا گماں کرتا رہوں گا ملے گا ملک خوبی یا متاع سرگرانی میں اپنے نام ...

    مزید پڑھیے

    جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

    جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا ترے ماتھے پہ مرا نام چمکتا تھا کبھی ان دنوں کی کوئی پہچان پرانی دے جا جس کی آغوش میں کٹ جائیں ہزاروں راتیں میری تنہائی کو چھو کر وہ کہانی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3