دیو قامت بنا ہوا گھوموں
دیو قامت بنا ہوا گھوموں اپنے قد کو مگر چھپا نہ سکوں وہ بھی پہچانتا نہیں ہے مجھے میں بھی اپنی نظر کو جھٹلا دوں ہٹ گیا ہوں مدار سے اپنے اب میں یوں ہی خلا میں پھرتا ہوں ٹیلی ویژن پہ ایک چہرہ ہے کم سے کم اس کو دیکھ سکتا ہوں کب سے سوکھی پڑی ہے یہ دھرتی میں کسی کے لہو کا پیاسا ...