Mehr Zarreen

مہر زریں

مہر زریں کی غزل

    مقام آدمی کچھ کم نہیں ہے

    مقام آدمی کچھ کم نہیں ہے فرشتوں سے تو کم آدم نہیں ہے ابھی دل جل رہا ہے آ بھی جاؤ اجالا چاند سے مدھم نہیں ہے ہماری ذات پر انگلی اٹھائے زمانے میں ابھی وہ دم نہیں ہے اڑاتا ہے ہوا میں کیوں دوانے یہ دامن ہے کوئی پرچم نہیں ہے تری مرضی ہے ساقی جس قدر دے ہمیں تو فکر بیش و کم نہیں ...

    مزید پڑھیے

    فکر کیجے تو زمین و آسماں کی کیجئے

    فکر کیجے تو زمین و آسماں کی کیجئے بات اپنی ہی نہیں سارے جہاں کی کیجئے تذکرہ صحرا نشینوں کا بھی رکھیے سامنے بات جب بھی ساکنان گلستاں کی کیجئے زندگی کو زندگی کی شکل دینی ہو تو پھر بات ہمدم امتحاں در امتحاں کی کیجئے دل میں گھر کرنا ہے دنیا کے تو سب سے پیشتر کچھ درستی اپنے اخلاق و ...

    مزید پڑھیے

    کبھی مسئلے رہے سامنے کبھی کشمکش رہی روبرو

    کبھی مسئلے رہے سامنے کبھی کشمکش رہی روبرو کبھی خود کو کھونے کا شوق تھا کبھی تجھ کو پانے کی آرزو مرے آنسوؤں کے بہاؤ میں مرا غسل ہوتا ہے رات دن میں وضو کروں بھی تو کیا کروں مرا بال بال ہے با وضو مرے شوق میرے جنون کو کسی دائرے میں نہ قید کر وہی شش جہت میں ہے لا الہ مجھے سمت کعبہ نہ ...

    مزید پڑھیے

    حالات سنورنے میں ذرا دیر لگے گی

    حالات سنورنے میں ذرا دیر لگے گی اس زخم کے بھرنے میں ذرا دیر لگے گی ٹھنڈا نہیں ہو پایا مرا خون ابھی تک مجھ کو ابھی مرنے میں ذرا دیر لگے گی ٹھہرو ابھی کچھ دیر مری آنکھوں کے آگے اوسان بکھرنے میں ذرا دیر لگے گی ابھرے گا بہ ہر طور ہر اک ڈوبنے والا مانا کہ ابھرنے میں ذرا دیر لگے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ اس طرح خاموش ہیں سنسان ہیں سڑکیں

    کچھ اس طرح خاموش ہیں سنسان ہیں سڑکیں جیسے کسی ویرانے کی مہمان ہیں سڑکیں اس رمز کو رہ گیر سمجھتے ہیں بخوبی سب جان کے پہچان کے انجان ہیں سڑکیں بستی میں بھی کچھ ایسے اندھیرے ہیں جہاں پر جھلسے ہوئے جسموں کا شبستان ہیں سڑکیں آرام جنہیں گھر میں میسر نہیں آتا ہر حال میں ان کے لئے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے

    کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے کشتی کو تلاطم کا خطرہ اور دور کنارہ کیا کہیے اپنوں کے ہمیشہ جور و ستم غیروں کا سہارا کیا کہیے کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گزارا کیا کہیے بھٹکا ہوا آنسو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں الجھا ہوا تارا کیا ...

    مزید پڑھیے

    پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے

    پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے صدیوں کے تجسس نے قرنوں کے اشاروں نے غرقابیٔ آدم کی تاریخ مرتب کی ویران جزیروں نے سنسان کناروں نے تاریخ کے چہرے پر جو زخم نظر آئے کچھ اور کیا گہرا ان وقت کے دھاروں نے ہر دور میں کیں پیدا آزادی کی تمثیلیں زنجیر کے حلقوں نے زنداں کی دراروں ...

    مزید پڑھیے