پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے

پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے
صدیوں کے تجسس نے قرنوں کے اشاروں نے


غرقابیٔ آدم کی تاریخ مرتب کی
ویران جزیروں نے سنسان کناروں نے


تاریخ کے چہرے پر جو زخم نظر آئے
کچھ اور کیا گہرا ان وقت کے دھاروں نے


ہر دور میں کیں پیدا آزادی کی تمثیلیں
زنجیر کے حلقوں نے زنداں کی دراروں نے


کیں عزم توانا کی دل کھول کے تعریفیں
پتھر کی فصیلوں نے فولاد کے آروں نے


شب خون و سیہ کاری بد چلنی و عیاری
سورج نے نہیں دیکھی دیکھی ہے ستاروں نے


اک کیف سا طاری ہے کھلتی ہی نہیں آنکھیں
کچھ ایسی پلا دی ہے نوخیز بہاروں نے


کیا مل کے پئیں اور کیا سر جوڑ کے ہم بیٹھیں
نقشہ ہی بدل ڈالا ساقی کے اشاروں نے


ان زخموں سے رستا ہے اے مہرؔ لہو اب تک
کھائے تھے کبھی پتھر جو بخت کے ماروں نے