کبھی مسئلے رہے سامنے کبھی کشمکش رہی روبرو

کبھی مسئلے رہے سامنے کبھی کشمکش رہی روبرو
کبھی خود کو کھونے کا شوق تھا کبھی تجھ کو پانے کی آرزو


مرے آنسوؤں کے بہاؤ میں مرا غسل ہوتا ہے رات دن
میں وضو کروں بھی تو کیا کروں مرا بال بال ہے با وضو


مرے شوق میرے جنون کو کسی دائرے میں نہ قید کر
وہی شش جہت میں ہے لا الہ مجھے سمت کعبہ نہ کھینچ تو


انہیں چاند تاروں کی اوٹ میں کوئی حسن ساز ضرور ہے
جو ہے کائنات پہ مہرباں جو ہے آسمانوں کی آبرو


یہ نیاز و ناز یہ مہرؔ اب مرے حال پر ہو کسی طرح
اسی غم میں رہتا ہوں در بدر اسی دھن میں پھرتا ہوں کو بہ کو