حالات سنورنے میں ذرا دیر لگے گی

حالات سنورنے میں ذرا دیر لگے گی
اس زخم کے بھرنے میں ذرا دیر لگے گی


ٹھنڈا نہیں ہو پایا مرا خون ابھی تک
مجھ کو ابھی مرنے میں ذرا دیر لگے گی


ٹھہرو ابھی کچھ دیر مری آنکھوں کے آگے
اوسان بکھرنے میں ذرا دیر لگے گی


ابھرے گا بہ ہر طور ہر اک ڈوبنے والا
مانا کہ ابھرنے میں ذرا دیر لگے گی


جو عظمت انساں کو ستاروں سے ملا دے
اس کام کے کرنے میں ذرا دیر لگے گی