کچھ اس طرح خاموش ہیں سنسان ہیں سڑکیں
کچھ اس طرح خاموش ہیں سنسان ہیں سڑکیں
جیسے کسی ویرانے کی مہمان ہیں سڑکیں
اس رمز کو رہ گیر سمجھتے ہیں بخوبی
سب جان کے پہچان کے انجان ہیں سڑکیں
بستی میں بھی کچھ ایسے اندھیرے ہیں جہاں پر
جھلسے ہوئے جسموں کا شبستان ہیں سڑکیں
آرام جنہیں گھر میں میسر نہیں آتا
ہر حال میں ان کے لئے وردان ہیں سڑکیں
محلوں کی یہی سڑکیں بڑھاتی ہیں سدا شان
پھر کس لئے محلوں سے پشیمان ہیں سڑکیں
جو دیکھتے ہیں دن میں حقارت کی نظر سے
مہرؔ ان کے لئے شب میں پرستان ہیں سڑکیں