نہ التماس و گزارش نہ التجا کوئی
نہ التماس و گزارش نہ التجا کوئی
نہ کوئی حرف دعا ہے نہ مدعا کوئی
کوئی شکایت و شکوہ بھی ہے تو خود سے ہے
فریب وقت سے ہرگز نہیں گلہ کوئی
میں اس یقین کو کیسے گماں شمار کروں
ابھی تلک تو مرے ساتھ ساتھ تھا کوئی
وہ میری روح میں احساس لمس چھوڑ گیا
کچھ اتنے پاس سے ہو کر گزر گیا کوئی
بس ایک کشتی تلاطم کی زد میں آنے دو
یہ ناخدا بھی پکاریں گے ہے خدا کوئی
یہ واقعہ بھی عجب ہے کہ ختم نور کے بعد
دھواں پکارتا ہے بجھ گیا دیا کوئی
انہیں بھی ترک مراسم سے اک ضرر پہنچا
کہ چاہ کر بھی نہ دے پائے غم نیا کوئی
وہ ایک دور کی آواز سب پہ چھائی رہی
بہت قریب سے دیتا رہا صدا کوئی
فصیل ضبط پہ رکھا ہوا چراغ ہوں میں
بجھا نہ پائے گی ہرگز مجھے ہوا کوئی