زباں ہو چپ تو تیور بولتے ہیں
زباں ہو چپ تو تیور بولتے ہیں
پس منظر سے منظر سے بولتے ہیں
بس اک تو ہی تو ہے وہ جس کے حق میں
زمیں ذرات پتھر بولتے ہیں
لہو گر ترجمان بندگی ہو
گلے تک آ کے خنجر بولتے ہیں
میں وہ قیدی ہوں جس سے خلوتوں میں
گلے کے طوق و لنگر بولتے ہیں
سر محفل جو کچھ خاموش سے ہیں
وہ تنہائی میں اکثر بولتے ہیں