تشنگی درد تھکن سوز جگر رکھتا ہے

تشنگی درد تھکن سوز جگر رکھتا ہے
اک مسافر کئی سوغات سفر رکھتا ہے


یہ عجب دور ترقی ہے کہ انساں ہر پل
خود سے غافل ہے مگر سب کی خبر رکھتا ہے


وہ جو ناواقف آداب وفا ہے وہ بھی
جذب عشق تہ قلب و جگر رکھتا ہے


کام لیتا ہے جو حالات کی ناکامی سے
اپنے دامن میں وہی فتح و ظفر رکھتا ہے


میرے مالک مجھے درکار نہیں طول حیات
عمر دے اس کو جو جینے کا ہنر رکھتا ہے


جانے کیا کہہ دیا اس نے دم رخصت مجھ سے
اس کا ہر لفظ قیامت کا اثر رکھتا ہے


تیرے احباب سے اچھا ترا دشمن معراجؔ
تیرے بارے میں جو پل پل کی خبر رکھتا ہے