رابطے بھی نہیں فاصلہ بھی نہیں

رابطے بھی نہیں فاصلہ بھی نہیں
دور ہوں تجھ سے لیکن جدا بھی نہیں


موت ہی سے سہی ذائقے تو ملے
زندگی میں تو کوئی مزہ بھی نہیں


کس کی آنکھوں میں دیکھیں محبت کا عکس
اب تو ایسا کوئی آئینہ بھی نہیں


لاکھ غربت شکستوں کے ساماں کرے
ہارنے والی میری انا بھی نہیں


چاند تارے چمکتے ہیں ان کے لئے
جن کے گھر روشنی کو دیا بھی نہیں


عمر رہتے ہوئے کر لو عشق و وفا
یہ وہ واجب ہے جس کی قضا بھی نہیں


میری خاموشیاں اس کی سرگوشیاں
میں نے سب کہہ دیا اور کہا بھی نہیں


ان کا معراجؔ کیسا عجب طرز ہے
بے وفا بھی نہیں با وفا بھی نہیں