ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے
ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے احساس میں ہے جتنی بھی ہلچل لہو سے ہے شادابیاں اسی کی بدولت ہیں روح میں ہے ریگزار جسم جو جل تھل لہو سے ہے ثابت ہوا کہ دیتا ہے تو یہ بھی آگ سی ثابت ہوا یہ سوز مسلسل لہو سے ہے خاکے سبھی ادھورے ہیں سب نقش نا تمام دنیا میں جو بھی کچھ ہے مکمل لہو سے ...