Mehboob Rahi

محبوب راہی

محبوب راہی کی غزل

    ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے

    ہنگامہ شہر جاں میں مسلسل لہو سے ہے احساس میں ہے جتنی بھی ہلچل لہو سے ہے شادابیاں اسی کی بدولت ہیں روح میں ہے ریگزار جسم جو جل تھل لہو سے ہے ثابت ہوا کہ دیتا ہے تو یہ بھی آگ سی ثابت ہوا یہ سوز مسلسل لہو سے ہے خاکے سبھی ادھورے ہیں سب نقش نا تمام دنیا میں جو بھی کچھ ہے مکمل لہو سے ...

    مزید پڑھیے

    جو اختلاف نہیں ہے تو اعتراف تو ہو

    جو اختلاف نہیں ہے تو اعتراف تو ہو ہے اختلاف تو کچھ وجۂ اختلاف تو ہو دلوں میں کیا ہے کچھ اس کا اتا پتا تو چلے کہ بات جیسی ہو جو بھی ہو صاف صاف تو ہو کچھ اس سے ربط و تعلق کا سلسلہ تو لگے نہیں ہے وہ جو موافق نہ ہو خلاف تو ہو نہیں برائی مٹانے کی گر ہمیں توفیق کم از کم اس سے تنفر تو ...

    مزید پڑھیے

    خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل

    خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل تشنگی ہو گئی مقدر چل روگ مت آشنائیوں کے بڑھا چھوڑ آوارگی میاں گھر چل ذرہ-ذرہ نہ خود بکھر ایسا جمع کر اپنے آپ کو گھر چل ہیں حقائق کے مرحلے درپیش اپنے خوابوں کا باندھ بستر چل پیٹ کے مسئلے بلاتے ہیں کارخانے دکان دفتر چل زندگی راستہ ہے شعلوں کا دامن ...

    مزید پڑھیے

    کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں

    کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں کھوجنے والے تو کیا کھوج رہا ہے مجھ میں میں تو خاموش ہوں حالات کی سفاکی پر جانے پھر کون ہے جو چیخ رہا ہے مجھ میں جس سے ہو پائی نہ تا حال شناسائی مری لوگ کہتے ہیں کہ اک ذہن رسا ہے مجھ میں پھر مسائل کے یزید آئے ہیں بیعت لینے گرم پھر معرکۂ کرب و ...

    مزید پڑھیے

    اگر اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتے ہو

    اگر اللہ کی وحدانیت تسلیم کرتے ہو تو پھر انسان کو خانوں میں کیوں تقسیم کرتے ہو محبت دسترس سے لفظ و معنی کی ہے بالاتر میاں تم اس کی بھی تشریح اور تفہیم کرتے ہو تمہارا قول کیوں کر معتبر ٹھہرے کہ تم اس میں کبھی تنسیخ کرتے ہو کبھی ترمیم کرتے ہو حقیر ان کو سمجھتے ہو جو ہیں توقیر کے ...

    مزید پڑھیے

    چاند سورج شفق کہکشاں ختم شد

    چاند سورج شفق کہکشاں ختم شد اب اڑوں کس طرف آسماں ختم شد ریگزار یقیں تا بحد نظر سبزہ زار خیال و گماں ختم شد پھر ہوا یوں کہ آنکھ ایک دم کھل گئی مختصر یہ کہ بس داستاں ختم شد فکر کے سارے گل بوٹے مرجھا گئے ذہن کی ساری شادابیاں ختم شد اس نے آتے ہی سب کھڑکیاں کھول دیں دفعتاً سر میں ...

    مزید پڑھیے

    عدو کے پیروں سے کانٹے نکالنے والے

    عدو کے پیروں سے کانٹے نکالنے والے کہاں ہیں نیکیاں دریا میں ڈالنے والے اچھالتے ہیں وہ اب پگڑیاں بزرگوں کی ہتھیلیوں پہ سروں کو اچھالنے والے خدا تجھے بھی کہیں اپنے در سے ٹال نہ دے اے اپنے در سے سوالی کو ٹالنے والے ہمیں بھی مل گئے کچھ دوست دوستوں جیسے ہم آستیں میں ہیں اب سانپ ...

    مزید پڑھیے

    اچھے نہیں ہیں وقت کے تیور مرے عزیز

    اچھے نہیں ہیں وقت کے تیور مرے عزیز رہنا ہے اپنی کھال کے اندر مرے عزیز تیری منافقت پہ مجھے کوئی شک نہیں میرے رفیق میرے برادر مرے عزیز آ تیری تشنگی کا مداوا ہے میرے پاس میرا لہو حلال ہے تجھ پر مرے عزیز احساس جس کا نام ہے وہ چیز مستقل چبھتی ہے میرے ذہن کے اندر مرے عزیز اور اس میں ...

    مزید پڑھیے

    شعلوں میں غم ذات کے جھلسایا ہوا سا

    شعلوں میں غم ذات کے جھلسایا ہوا سا ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا سا ہر شخص ہے اوہام کے آسیب کے ہاتھوں سہما ہوا سمٹا ہوا گھبرایا ہوا سا صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا ہر شخص ہے بے مہریٔ حالات سے ہر دم روٹھا ہوا بپھرا ہوا جھلایا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا

    شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا سا ہر شخص ہے اوہام کے آسیب کے ہاتھوں سہما ہوا سمٹا ہوا گھبرایا ہوا سا ہر ذہن جو فردوس تخیل تھا کسی دن لگتا ہے جہنم کوئی دہکایا ہوا سا صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا ہر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2