عدو کے پیروں سے کانٹے نکالنے والے

عدو کے پیروں سے کانٹے نکالنے والے
کہاں ہیں نیکیاں دریا میں ڈالنے والے


اچھالتے ہیں وہ اب پگڑیاں بزرگوں کی
ہتھیلیوں پہ سروں کو اچھالنے والے


خدا تجھے بھی کہیں اپنے در سے ٹال نہ دے
اے اپنے در سے سوالی کو ٹالنے والے


ہمیں بھی مل گئے کچھ دوست دوستوں جیسے
ہم آستیں میں ہیں اب سانپ پالنے والے


دکھائی دیں گے وہ اب سنگریزے چنتے ہوئے
سمندروں کی تہوں کو کھنگالنے والے


وہ جن کو لطف جڑیں کاٹنے میں آتا ہے
وہ کب ہیں گرتے ہوؤں کو سنبھالنے والے