کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں

کیا کوئی گنج گراں مایہ چھپا ہے مجھ میں
کھوجنے والے تو کیا کھوج رہا ہے مجھ میں


میں تو خاموش ہوں حالات کی سفاکی پر
جانے پھر کون ہے جو چیخ رہا ہے مجھ میں


جس سے ہو پائی نہ تا حال شناسائی مری
لوگ کہتے ہیں کہ اک ذہن رسا ہے مجھ میں


پھر مسائل کے یزید آئے ہیں بیعت لینے
گرم پھر معرکۂ کرب و بلا ہے مجھ میں


دوستو مجھ کو کھنگالو گے کہاں تک آخر
ماسوا کرب بھلا دوسرا کیا ہے مجھ میں


نہ کوئی درد نہ احساس نہ جذبہ نہ امنگ
یہ بھی راہیؔ کوئی جینے کی ادا ہے مجھ میں