خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل
خشک ہیں یہ سبھی سمندر چل
تشنگی ہو گئی مقدر چل
روگ مت آشنائیوں کے بڑھا
چھوڑ آوارگی میاں گھر چل
ذرہ-ذرہ نہ خود بکھر ایسا
جمع کر اپنے آپ کو گھر چل
ہیں حقائق کے مرحلے درپیش
اپنے خوابوں کا باندھ بستر چل
پیٹ کے مسئلے بلاتے ہیں
کارخانے دکان دفتر چل
زندگی راستہ ہے شعلوں کا
دامن عافیت بچا کر چل
بھول مت اپنی حیثیت راہیؔ
اپنی حد رسا کے اندر چل