Mehboob Rahi

محبوب راہی

محبوب راہی کی غزل

    پیکر سنگ و آہنگ جیسا تنہا کھڑا ہوں ویسے تو

    پیکر سنگ و آہنگ جیسا تنہا کھڑا ہوں ویسے تو اندر ٹوٹا پھوٹا ہوں سالم لگتا ہوں ویسے تو ذہن کی آنکھوں پر دانستہ پٹی باندھے بیٹھا ہوں سب کچھ دیکھ رہا ہوں سب کچھ سمجھ رہا ہوں ویسے تو کل گمنامی کی گہری کھائی میں بھی گر سکتا ہوں شہرت کی اونچی چوٹی پر آج کھڑا ہوں ویسے تو بس اک منافقت ...

    مزید پڑھیے

    یہ کرب کا احساس مسلسل مرے اللہ

    یہ کرب کا احساس مسلسل مرے اللہ کر دے گا کسی دن مجھے پاگل مرے اللہ بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹوں بھی کہاں تک کس طرح کروں خود کو مکمل مرے اللہ ہر ذہن جہالت کے اندھیروں کا ہے مسکن ہر ہاتھ میں ہے علم کی مشعل مرے اللہ لاشوں کے ہر ایک شہر میں بازار سجے ہیں ہر موڑ پہ ہے اک نیا مقتل مرے ...

    مزید پڑھیے

    الطاف و کرم غیظ و غضب کچھ بھی نہیں ہے

    الطاف و کرم غیظ و غضب کچھ بھی نہیں ہے تھا پہلے بہت کچھ مگر اب کچھ بھی نہیں ہے برسات ہو سورج سے سمندر سے اگے آگ ممکن ہے ہر اک بات عجب کچھ بھی نہیں ہے دل ہے کہ حویلی کوئی سنسان سی جس میں خواہش ہے نہ حسرت نہ طلب کچھ بھی نہیں ہے اب زیست بھی اک لمحۂ ساکت ہے کہ جس میں ہنگامۂ دن گرمیٔ ...

    مزید پڑھیے

    بظاہر اس کا قد اونچا بہت ہے

    بظاہر اس کا قد اونچا بہت ہے مگر اندر سے وہ چھوٹا بہت ہے جہنم کی ضرورت کیا ہے آخر عذابوں کو تو یہ دنیا بہت ہے بڑے اخلاص سے ملتا ہے مجھ سے مجھے اس شخص سے خدشہ بہت ہے ذرا سا چھاؤں تھوڑا سا اجالا ہمارے واسطے اتنا بہت ہے ہوس کو کم ہیں اسباب دو عالم قناعت کے لیے تھوڑا بہت ہے ترے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2