پیکر سنگ و آہنگ جیسا تنہا کھڑا ہوں ویسے تو
پیکر سنگ و آہنگ جیسا تنہا کھڑا ہوں ویسے تو اندر ٹوٹا پھوٹا ہوں سالم لگتا ہوں ویسے تو ذہن کی آنکھوں پر دانستہ پٹی باندھے بیٹھا ہوں سب کچھ دیکھ رہا ہوں سب کچھ سمجھ رہا ہوں ویسے تو کل گمنامی کی گہری کھائی میں بھی گر سکتا ہوں شہرت کی اونچی چوٹی پر آج کھڑا ہوں ویسے تو بس اک منافقت ...