شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا

شعلوں میں غم ذات کی جھلسایا ہوا سا
ہر پیکر احساس ہے مرجھایا ہوا سا


ہر شخص ہے اوہام کے آسیب کے ہاتھوں
سہما ہوا سمٹا ہوا گھبرایا ہوا سا


ہر ذہن جو فردوس تخیل تھا کسی دن
لگتا ہے جہنم کوئی دہکایا ہوا سا


صدیوں سے میں جینے کی سزا کاٹ رہا ہوں
سانسوں کی صلیبوں پہ ہوں لٹکایا ہوا سا


ہر شخص ہے بے مہریٔ حالات سے ہر دم
روٹھا ہوا بپھرا ہوا جھلایا ہوا سا


صحراؤں میں نفرت کے بھٹکتا ہوں مسلسل
دو گھونٹ کو چاہت کے ہوں ترسایا ہوا سا


کیا پائے گا پھر وسعت افکار کہ راہیؔ
روٹی کے جھمیلوں میں ہے الجھایا ہوا سا