Meena Naqvi

مینا نقوی

مینا نقوی کی غزل

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے

    جب اسے دیکھا ذرا نزدیک سے تب سمجھ پائے ہیں تھوڑا ٹھیک سے بات جب ہے دل ہو خود ہی بے قرار وہ محبت کیا ملے جو بھیک سے بھول بیٹھے قدر دانی کا چلن لوگ ہم رشتہ ہیں اب تضحیک سے روشنی کا جشن سا ہے ہر طرف پھر بھی چہرے ہیں کئی تاریک سے یہ جلی لفظوں میں لکھا تھا کہیں انقلاب آتا ہے اک تحریک ...

    مزید پڑھیے

    ہیں اہل نظر یہاں پہ سبھی غلط کوئی کام ہو نہ سکے

    ہیں اہل نظر یہاں پہ سبھی غلط کوئی کام ہو نہ سکے شراب کہن وہ پی کے چلے جو مست خرام ہو نہ سکے نہ کوئی لگن نہ دل میں چبھن نہ رشک سخن نہ رنگ چمن نہیں تھا جنہیں شعور وفا وہ عالی مقام ہو نہ سکے جو تیرہ شبی نے چھوڑا مجھے تو دل سے مرے اٹھی یہ صدا اجالے ذرا خیال رہے سحر کبھی شام ہو نہ ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا

    دھوپ آئی نہیں مکان میں کیا ابر گہرا ہے آسمان میں کیا آہ کیوں بے صدا ہے ہونٹوں پر لفظ باقی نہیں زبان میں کیا ہو گیا نیل گوں بدن سارا تیر زہریلے تھے کمان میں کیا سارے کردار ساتھ چھوڑ گئے آ گیا موڑ داستان میں کیا جھلسا جھلسا ہے کیوں بدن سارا آ گئی دھوپ سائبان میں کیا نا شناسا ...

    مزید پڑھیے

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں

    جب چاندنیاں گھر کی دہلیز پہ چلتی ہیں آسیب زدہ روحیں سڑکوں پہ ٹہلتی ہیں دراصل وہ نیندیں ہیں آغوش میں اشکوں کی پلکوں کی منڈیروں سے ہر شب جو پھسلتی ہیں معصوم امیدیں ہیں حالات کی گردش میں گھر میں کسی مفلس کے شہزادیاں پلتی ہیں اے کاش کہ روشن ہوں فانوس امیدوں کے آنکھوں کے کٹوروں ...

    مزید پڑھیے

    اہل دانش کو خبر کیا کیا ہے پاگل کا مزاج

    اہل دانش کو خبر کیا کیا ہے پاگل کا مزاج سنگ باروں کو ہے کب معلوم گھائل کا مزاج کس طرف سے ہے گزرنا اور برسنا ہے کہاں بس ہواؤں کو پتا رہتا ہے بادل کا مزاج میرے سر پر رہ کے بھی مجھ پر نہ سایہ کر سکا میری قسمت سے کہاں ملتا ہے آنچل کا مزاج تجھ کو پلکوں میں چھپا کر میں پرستش کر تو ...

    مزید پڑھیے

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ

    اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ منتظر کب سے ہے تاروں کا سمندر تیرا شام سے شہر نگاراں کی طرح واپس آ اس طرح آ کہ اندھیروں میں اجالا جاگے ایک شب شمع فروزاں کی طرح واپس آ پھول بن جائیں گی سورج کی دہکتی کرنیں دشت میں رنگ گلستاں کی طرح واپس آ اس سے ...

    مزید پڑھیے

    بلندیوں کا تھا جو مسافر وہ پستیوں سے گزر رہا ہے

    بلندیوں کا تھا جو مسافر وہ پستیوں سے گزر رہا ہے تمام دن کا سلگتا سورج سمندروں میں اتر رہا ہے تمہاری یادوں کے پھول ایسے سحر کو آواز دے رہے ہیں کہ جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مری گلی سے گزر رہا ہے الگ ہیں نظریں الگ نظارے عجب ہیں راز و نیاز سارے کسی کے جذبے چمک رہے ہیں کسی کا احساس مر ...

    مزید پڑھیے

    خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر

    خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر اندھیرے تلملا اٹھے چراغ کی مجال پر یہ چاہتوں کا درد ہے یہ قربتوں کا حشر ہے جو دھوپ چھپ کے روئی آفتاب کے زوال پر یہ جان کر کہ چاند میرے گھر میں جگمگائے گا ستارے آج شام سے ہی آ گئے کمال پر نظر میں زندگی کی پھول معتبر نہ ہو سکے خزاں کو اعتراض تھا ...

    مزید پڑھیے

    ہیں اجنبی راستوں کے منظر شناسا کوئی ڈگر نہیں ہے

    ہیں اجنبی راستوں کے منظر شناسا کوئی ڈگر نہیں ہے قدم قدم پر صعوبتیں ہیں سفر تو ہے ہم سفر نہیں ہے چمن کے شیدائیوں سے اک دن سوال یہ پوچھنا ہے مجھ کو کھلا جو پر خار جنگلوں میں وہ پھول کیوں معتبر نہیں ہے میں بند آنکھوں کے آئنوں میں تمہاری آمد کی منتظر ہوں چلے بھی آؤ مری محبت کا راستہ ...

    مزید پڑھیے

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے

    پھول مہکائے تھے میں نے شادمانی کے لیے ہر نفس اب مر رہی ہوں زندگانی کے لیے کس طرح کلیاں کھلیں اور کس طرح مہکیں گلاب تنگ ہو جائے زمیں جب باغبانی کے لیے صبر کی حد سے گزر جاتی ہے صحراؤں کی پیاس خشک ہو جاتا ہے جب دریا ہی پانی کے لیے اس کی چاہت اس کی قربت اس کی باتیں اس کی یاد کتنے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3