ہیں اجنبی راستوں کے منظر شناسا کوئی ڈگر نہیں ہے

ہیں اجنبی راستوں کے منظر شناسا کوئی ڈگر نہیں ہے
قدم قدم پر صعوبتیں ہیں سفر تو ہے ہم سفر نہیں ہے


چمن کے شیدائیوں سے اک دن سوال یہ پوچھنا ہے مجھ کو
کھلا جو پر خار جنگلوں میں وہ پھول کیوں معتبر نہیں ہے


میں بند آنکھوں کے آئنوں میں تمہاری آمد کی منتظر ہوں
چلے بھی آؤ مری محبت کا راستہ پر خطر نہیں ہے


تمہاری خوشبو چرا رہی ہوں مثال باد سحر میں لیکن
نگاہ سورج کی چبھ رہی ہے تمہیں یہ شاید خبر نہیں ہے


یہ غزلیں نظمیں یہ دل کے جذبے یہ مہکے مہکے خیال سارے
سجا رہی ہوں میں لفظ اپنے کسی کی مجھ پر نظر نہیں ہے