اہل دانش کو خبر کیا کیا ہے پاگل کا مزاج

اہل دانش کو خبر کیا کیا ہے پاگل کا مزاج
سنگ باروں کو ہے کب معلوم گھائل کا مزاج


کس طرف سے ہے گزرنا اور برسنا ہے کہاں
بس ہواؤں کو پتا رہتا ہے بادل کا مزاج


میرے سر پر رہ کے بھی مجھ پر نہ سایہ کر سکا
میری قسمت سے کہاں ملتا ہے آنچل کا مزاج


تجھ کو پلکوں میں چھپا کر میں پرستش کر تو لوں
آنسوؤں کے ساتھ بہہ جاتا ہے کاجل کا مزاج


جتنا بھی چاہوں نکلنا ڈوبتی جاتی ہوں میں
تیری یادوں میں ملا ہے مجھ کو دلدل کا مزاج


میناؔ صدیاں آئیں اور تاریخ بن کر رہ گئیں
لمحہ لمحہ جانتا ہے میرے ہر پل کا مزاج