اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ

اس برس فصل بہاراں کی طرح واپس آ
تو مری جان ہے جاناں کی طرح واپس آ


منتظر کب سے ہے تاروں کا سمندر تیرا
شام سے شہر نگاراں کی طرح واپس آ


اس طرح آ کہ اندھیروں میں اجالا جاگے
ایک شب شمع فروزاں کی طرح واپس آ


پھول بن جائیں گی سورج کی دہکتی کرنیں
دشت میں رنگ گلستاں کی طرح واپس آ


اس سے پہلے کہ گریزاں ہوں یہ خوشبو لمحے
تو مرے عہد گریزاں کی طرح واپس آ


آ کہ ہم ڈھونڈ لیں اشکوں میں ہنسی کے لمحے
تو بھی اس گردش دوراں کی طرح واپس آ


تجھ پہ لازم ہے وفاؤں کا بھرم رکھ لینا
بھولے بسرے کسی پیماں کی طرح واپس آ


کون سنتا ہے وہاں تیری صدائیں میناؔ
اپنے گھر شہر خموشاں کی طرح واپس آ