Meena Naqvi

مینا نقوی

مینا نقوی کی غزل

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون

    محبتوں میں وفا کا حساب دے گا کون اندھیری شب کے لئے آفتاب دے گا کون تم اپنی نیند سے جاگو تو اک سوال کریں کہ رت جگوں کا ہمارے حساب دے گا کون اگر رہے گا یہی حال بے نیازی کا تمہارے ہاتھ میں دل کی کتاب دے گا کون تھکی تھکی سی نظر کو کہاں میسر تم خزاں کے دور میں کھلتا گلاب دے گا کون دل ...

    مزید پڑھیے

    اس کے آنے کی خبر چپکے سے لاتی ہے ہوا

    اس کے آنے کی خبر چپکے سے لاتی ہے ہوا رات میں صبح کی مانند جگاتی ہے ہوا نغمگی ساز میں سانسوں کے اتر جاتی ہے دل کے صحراؤں میں جب جھومتی گاتی ہے ہوا ابر کچھ دیر برس کے جو چلا جاتا ہے دیر تک پیڑ کی شاخوں کو رلاتی ہے ہوا جب سے اک پھول سے چہرے نے نظر پھیری ہے ایسا لگتا ہے کہ اس شہر سے ...

    مزید پڑھیے

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک

    حالات کے دریاؤں میں خطرے کے نشاں تک چل پائیں گے کیا آپ مرے ساتھ وہاں تک میں ملک بدر صبر بھی کر سکتی تھی لیکن یہ دیکھنا تھا ظلم کی سرحد ہے کہاں تک خوددار طبیعت کو گزرتی ہے گراں بار جب تشنہ لبی جاتی ہے خود آب رواں تک ہم جرأت اظہار کے اس دور سے گزرے جس دور میں الفاظ کی کانٹی تھی ...

    مزید پڑھیے

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں

    یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں انا کے حق میں کثیر ہوں میں مجھے ستارہ سمجھنے والوں فلک پہ بدر منیر ہوں میں ہے منصفی میرے دم سے قائم عدالتوں کی مشیر ہوں میں ہے مجھ میں زنجیر چاہتوں کی محبتوں کی اسیر ہوں میں حقیقتیں مجھ میں خیمہ زن ہیں صداقتوں کی سفیر ہوں میں کہاں گئی عشق کی وہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3