Meena Naqvi

مینا نقوی

مینا نقوی کی غزل

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں

    آنکھوں میں رنگ پیار کے بھرنے لگی ہوں میں آئینہ سامنے ہے سنورنے لگی ہوں میں آنکھوں میں اس کی پا کے اشارے وفاؤں کے گہرے سمندروں میں اترنے لگی ہوں میں منزل نہ قافلہ نہ مسافر نہ راہبر یہ کیسے راستوں سے گزرنے لگی ہوں میں احباب کے فریب مسلسل نے یہ کیا پرچھائیوں سے اپنی ہی ڈرنے لگی ...

    مزید پڑھیے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے

    جب سے ترے لہجے میں تھکن بول رہی ہے دل میں مرے سورج کی جلن بول رہی ہے کیوں دل کے دھڑکنے کی صدا ہو گئی مدھم لگتا ہے کہ سانسوں میں تھکن بول رہی ہے کہتی ہے کہ انعام ہے یہ در بدری کا پاؤں میں جو کانٹوں کی چبھن بول رہی ہے مدت سے لہو رنگ ہے اشکوں کی روانی زخموں میں زمانے کی دکھن بول رہی ...

    مزید پڑھیے

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا

    چاند کیسے کسی تارے میں سما جائے گا پھر بھی امید کو ضد ہے کہ وہ آ جائے گا کیا خبر تھی مری راتوں کی وہ نیندیں لے کر جگنوؤں کو مری پلکوں پہ سجا جائے گا غم کے صحرا میں بکھر جاؤں میں تنکوں کی طرح ایک جھونکا بھی یہ طوفان اٹھا جائے گا اپنا ہر لفظ اتارے گا مرے ذہن میں پھر دل میں جو بات ...

    مزید پڑھیے

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے

    کس طرح چبھتے ہوئے خار سے خوشبو آئے پھول ہوں لفظ تو اظہار سے خوشبو آئے ننھے غنچوں سے کھلا رہتا ہے آنگن دل کا یوں مہکتی ہوں کہ گھر بار سے خوشبو آئے گردش وقت کی تاریکی سے ڈرنا کیسا ساتھ ہو وہ تو شب تار سے خوشبو آئے جذبۂ دل میں جو سچائی کی دھڑکن ابھرے عشق لوبان بنے پیار سے خوشبو ...

    مزید پڑھیے

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر

    مزاج اپنے کہاں آج ہیں ٹھکانے پر حضور آئے ہیں میرے غریب خانے پر پگھل رہی ہے مسلسل جو برف آنکھوں سے عجیب دھوپ ہے پلکوں کے شامیانے پر نہ جانے آ گئے کیوں اس کی آنکھ میں آنسو جو ہنس رہا تھا مرے درد کے فسانے پر ذرا سی سمت بدل لی جو اپنی مرضی سے تو ناؤ آ گئی طوفان کے نشانے پر خدا بچا ...

    مزید پڑھیے

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے

    آساں ہر ایک ہو گئی مشکل مرے لئے جس دن سے محترم ہوا قاتل مرے لئے میں وحشتوں میں دشت و بیاباں کی ہو گئی مدت سے ملتمس ہے مرا دل مرے لئے یوں راستوں سے ان دنوں دلچسپیاں بڑھیں قدموں کی خاک ہو گئی منزل مرے لئے آسانیاں نظر کو بچا کر چلی گئیں ٹھہرے رہے تمام مسائل مرے لئے آواز میرے حق ...

    مزید پڑھیے

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں

    کبھی زیادہ کبھی کم رہا ہے آنکھوں میں اک انتظار کا موسم رہا ہے آنکھوں میں کبھی ہے خشک کبھی نم رہا ہے آنکھوں میں ٹھہر ٹھہر کے یہ زمزم رہا ہے آنکھوں میں بسا ہوا ہے تصور میں اک حسیں پیکر کوئی خیال مجسم رہا ہے آنکھوں میں نظر کے سامنے آئی ہیں کتنی تصویریں اسی کا عکس مگر رم رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے

    غم نہیں ہے چاہے جتنی تیرگی قائم رہے مجھ پہ بس تیری نظر کی چاندنی قائم رہے اس لئے اوڑھے ہوئے ہوں میں خزاؤں کی ردا میرے گلشن کی فضا میں تازگی قائم رہے ہم نشیں اتنا بتا دے کیا کروں تیرے بغیر کس طرح سانسوں سے عاری زندگی قائم رہے رنگ الفت کی بقا کے واسطے میرے خدا عاشقی قائم رہے اور ...

    مزید پڑھیے

    وہ ہے اپنا یہ جتانا بھی نہیں چاہتے ہم

    وہ ہے اپنا یہ جتانا بھی نہیں چاہتے ہم دل کو اب اور دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم آرزو ہے کہ وہ ہر بات کو خود ہی سمجھے دل میں کیا کیا ہے دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم ایک پردے نے بنا رکھا ہے دونوں کا بھرم اور وہ پردہ ہٹانا بھی نہیں چاہتے ہم تہمتیں ہم پہ لگی رہتی ہیں لیکن پھر بھی آسماں سر پہ ...

    مزید پڑھیے

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے

    تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے رنج اور غم کی جو برسات ہوا کرتی ہے دولت عشق کی خیرات ہوا کرتی ہے جب خیالوں میں دبے پاؤں وہ آ جاتا ہے وہ ملاقات ملاقات ہوا کرتی ہے اس کی خاموشی بھی طوفاں کا پتا دیتی ہے اس کی ہر بات میں اک بات ہوا کرتی ہے جس پہ رشتوں کے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3