ہیں اہل نظر یہاں پہ سبھی غلط کوئی کام ہو نہ سکے

ہیں اہل نظر یہاں پہ سبھی غلط کوئی کام ہو نہ سکے
شراب کہن وہ پی کے چلے جو مست خرام ہو نہ سکے


نہ کوئی لگن نہ دل میں چبھن نہ رشک سخن نہ رنگ چمن
نہیں تھا جنہیں شعور وفا وہ عالی مقام ہو نہ سکے


جو تیرہ شبی نے چھوڑا مجھے تو دل سے مرے اٹھی یہ صدا
اجالے ذرا خیال رہے سحر کبھی شام ہو نہ سکے


تھے ہونٹ مرے اسی کے لئے زمانے سے بے قرار مگر
یہ قید مجھے لگا دی گئی کہ لب پہ وہ نام ہو نہ سکے


لہو میں نہا کے وہ ہی چلا لکھا تھا جبیں پہ جس کی خدا
تھے اور بھی دعوے دار یہاں مگر وہ امام ہو نہ سکے


خرید کے لا نہ پاؤ گے تم ملیں گے نہیں دوکاں پہ اصول
تھے صاحب زر ہزار مگر وفا کے غلام ہو نہ سکے


بندھا کے مری امید کسی نے دور کہیں کھلائے گلاب
تھا شوق جنوں بلا کا مگر پیام و سلام ہو نہ سکے