Masood Hassas

مسعود حساس

مسعود حساس کی غزل

    آہوں میں شرر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں

    آہوں میں شرر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں جذبوں کا بھنور لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں ہر سمت خداؤں کے آئینے ہیں استادہ گستاخ نظر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں میں زہر ہلاہل کا قائل تو نہیں لیکن ناصور جگر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں دشمن ہے ہوا جانی بارش بھی ہے تیزابی جلتا ہوا گھر لے کر جاؤں تو کہاں ...

    مزید پڑھیے

    لہو میں آج کل حدت بہت مشکل سے آتی ہے

    لہو میں آج کل حدت بہت مشکل سے آتی ہے کسی کے درد کی چاہت بہت مشکل سے آتی ہے یہ سچ ہے جرأت رندانہ سے قسمت بدلتی ہے مگر ہر شخص میں جرأت بہت مشکل سے آتی ہے کہ اس کے واسطے نیزے پہ سر کو رکھنا پڑتا ہے میاں حق گوئی کی طاقت بہت مشکل سے آتی ہے غریبی کو تو مل ہی جاتی ہے دو وقت کی روٹی مگر ...

    مزید پڑھیے

    ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

    ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف ندی نالے ہی نہیں صحرا بنا ہے برف برف اڑ رہے ہیں روئی کے گالے فضاؤں میں اسیر ہے لہو بھی منجمد چہرہ ہوا ہے برف برف اک حسینہ کی سیہ زلفوں پہ جھالا یوں لگے ناگ کالا چھگ کے جیسے پی گیا ہے برف برف مسکرانا ایسے موسم میں کہاں آسان ہے ہونٹ نیلے پڑ گئے ...

    مزید پڑھیے

    ایک کشتی کاغذی پر غور و خوض

    ایک کشتی کاغذی پر غور و خوض ہوگا میری سادگی پر غور و خوض آدمیت کا نشاں مٹتا گیا ہو رہا ہے آدمی پر غور و خوض جو مخالف تھے مرے کرتے ہیں وہ آج میری شاعری پر غور و خوض مفلسوں سے کوئی ہمدردی نہیں کس لئے ہے مفلسی پر غور و خوض کون بہتر ہے یہ عنواں چھوڑ کر کاش ہوتا بہتری پر غور و ...

    مزید پڑھیے

    ہماری فکر بھی خستہ ہمارے کار غلط

    ہماری فکر بھی خستہ ہمارے کار غلط ہماری جست نے بخشا ہمیں حصار غلط کہیں یہ قلب‌‌ حوادث کی تاب لا نہ سکے کہیں یہ دل ہی نہ لے لے کوئی قرار غلط یہ میرا دل ہے تمنائیں پال لیتا ہے ہوا ہے اس پہ بھی سایہ کوئی سوار غلط مجھے یقیں ہے نہ آئیں گے میری تربت پر برائے فاتحہ چنیے گا کب مزار ...

    مزید پڑھیے

    غزلوں کی کائنات کا بدلا ہوا ہے ڈھنگ

    غزلوں کی کائنات کا بدلا ہوا ہے ڈھنگ اللہ جانے کس گھڑی بیدار ہو ملنگ میں بھی مرا رقیب بھی دونوں ہیں زخم زخم دونوں لہولہان ہیں یہ ہے انا کا رنگ سر کاٹتا نہ آپ کا کرتا میں کیا بھلا اس بار لڑ رہا تھا میں اپنی بقا کی جنگ مفلس نے گر امیر کو چانٹا جڑا تو کیا آتش فشاں بھی پلتا ہے غربت کے ...

    مزید پڑھیے

    اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

    اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں جی جان لٹا آیا مگر پھر بھی برا ہوں اس جسم کو جھونکا ہے مشقت کی اگن میں ہر لمحہ مرا مر کے جیا جی کے مرا ہوں ہر روز قلم سر کو کیا ہاتھ سے اپنے ہر رات کو جذبات کی سولی پہ چڑھا ہوں اس ملک میں سونے کے نوالے نہیں بھائی بس ریت ہے اور ریت کو میں پھانک ...

    مزید پڑھیے

    فقط دیوار کا در کا تحفظ

    فقط دیوار کا در کا تحفظ ہو اس سے کیا مرے گھر کا تحفظ ہماری ذات ہے بار گراں کب مگر اک مسئلہ سر کا تحفظ علی کی ذات کا یہ فلسفہ ہے عبادت ہے پیمبر کا تحفظ ہیں آنکھیں آئنہ دل کا یقیناً ہوا دوبھر کھلے گھر کا تحفظ یہ شان رب نہیں تو اور کیا ہے کریں کانٹے گل تر کا تحفظ دفاع نفس میں یہ ...

    مزید پڑھیے