اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں
جی جان لٹا آیا مگر پھر بھی برا ہوں


اس جسم کو جھونکا ہے مشقت کی اگن میں
ہر لمحہ مرا مر کے جیا جی کے مرا ہوں


ہر روز قلم سر کو کیا ہاتھ سے اپنے
ہر رات کو جذبات کی سولی پہ چڑھا ہوں


اس ملک میں سونے کے نوالے نہیں بھائی
بس ریت ہے اور ریت کو میں پھانک رہا ہوں


جس گھر کو بڑے تاؤ سے تم بانٹ رہے ہو
اس گھر کے بنانے کو شب و روز جلا ہوں


تم سوچتے ہو عیش کا بستر ہے میسر
میں دھوپ کے صحرا میں تھکن اوڑھ رہا ہوں