ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف
ندی نالے ہی نہیں صحرا بنا ہے برف برف


اڑ رہے ہیں روئی کے گالے فضاؤں میں اسیر
ہے لہو بھی منجمد چہرہ ہوا ہے برف برف


اک حسینہ کی سیہ زلفوں پہ جھالا یوں لگے
ناگ کالا چھگ کے جیسے پی گیا ہے برف برف


مسکرانا ایسے موسم میں کہاں آسان ہے
ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں اس پر ہوا ہے برف برف


برف کی چادر ہے یا پھر برف کا ہے ریگزار
دیکھتا ہوں جس طرف عالم ہوا ہے برف برف


جب کبھی حساسؔ برفانی ہوا تن پر لگی
یاد آئی گاؤں کی آنسو پیا ہے برف برف