ہماری فکر بھی خستہ ہمارے کار غلط
ہماری فکر بھی خستہ ہمارے کار غلط
ہماری جست نے بخشا ہمیں حصار غلط
کہیں یہ قلب حوادث کی تاب لا نہ سکے
کہیں یہ دل ہی نہ لے لے کوئی قرار غلط
یہ میرا دل ہے تمنائیں پال لیتا ہے
ہوا ہے اس پہ بھی سایہ کوئی سوار غلط
مجھے یقیں ہے نہ آئیں گے میری تربت پر
برائے فاتحہ چنیے گا کب مزار غلط
یہ کس نے ابروئے خم دار سے مجھے دیکھا
کہاں سے آ گئی حق میں مرے بہار غلط
مرے نصیب کے قوسین نے دیا تحفہ
کبھی تو لیل مسلسل کبھی نہار غلط
میں اپنی اوج کا تم کو حساب کیا دیتا
مری لکیر تھی الجھی مرا مدار غلط
میں اپنے زخم جگر سوز و ساز کیوں لکھوں
ہزار بار گنا پھر بھی ہے شمار غلط