لہو میں آج کل حدت بہت مشکل سے آتی ہے
لہو میں آج کل حدت بہت مشکل سے آتی ہے
کسی کے درد کی چاہت بہت مشکل سے آتی ہے
یہ سچ ہے جرأت رندانہ سے قسمت بدلتی ہے
مگر ہر شخص میں جرأت بہت مشکل سے آتی ہے
کہ اس کے واسطے نیزے پہ سر کو رکھنا پڑتا ہے
میاں حق گوئی کی طاقت بہت مشکل سے آتی ہے
غریبی کو تو مل ہی جاتی ہے دو وقت کی روٹی
مگر دولت کے گھر راحت بہت مشکل سے آتی ہے
لہو کا گھونٹ بھرتے ہیں تبھی چشمہ ابلتا ہے
کسی کے شعر میں جدت بہت مشکل سے آتی ہے
یہاں پر چند سکوں کے عوض ایمان بکتا ہے
دلوں میں دین کی چاہت بہت مشکل سے آتی ہے