فقط دیوار کا در کا تحفظ

فقط دیوار کا در کا تحفظ
ہو اس سے کیا مرے گھر کا تحفظ


ہماری ذات ہے بار گراں کب
مگر اک مسئلہ سر کا تحفظ


علی کی ذات کا یہ فلسفہ ہے
عبادت ہے پیمبر کا تحفظ


ہیں آنکھیں آئنہ دل کا یقیناً
ہوا دوبھر کھلے گھر کا تحفظ


یہ شان رب نہیں تو اور کیا ہے
کریں کانٹے گل تر کا تحفظ


دفاع نفس میں یہ گھومتا ہے
بھنور سے ہے سمندر کا تحفظ


ہواؤں کی نظر اس بات پر ہے
کہ ہو کیسے بونڈر کا تحفظ


میاں حساسؔ کیوں ہو ضد پہ مائل
کوئی کرتا ہے کیا شر کا تحفظ