آہوں میں شرر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
آہوں میں شرر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
جذبوں کا بھنور لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
ہر سمت خداؤں کے آئینے ہیں استادہ
گستاخ نظر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
میں زہر ہلاہل کا قائل تو نہیں لیکن
ناصور جگر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
دشمن ہے ہوا جانی بارش بھی ہے تیزابی
جلتا ہوا گھر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
سنتا ہوں کہ سجدے میں ہے قرب خداوندی
فرعون کا سر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
صیاد کے کوچے سے ہر راہ گزرتی ہے
اب اذن سفر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں
حساس زمانے میں اعمال کی وقعت ہے
لفظوں کا ہنر لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں