Masihuddin Shariq

مسیح الدین شارق

مسیح الدین شارق کی غزل

    بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے

    بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے یہ زندگی نہ سہی زندگی سی لگتی ہے وہ شام جو کبھی دیوانہ وار آئی تھی وہ شام آج مجھے اجنبی سی لگتی ہے عجیب بات ہے ان سرمئی اندھیروں میں میں جب بھی دیکھوں مجھے روشنی سی لگتی ہے عجب طلب ہے تری تشنگی نہیں جاتی تو مل بھی جائے تو تیری کمی سی لگتی ہے

    مزید پڑھیے

    تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے

    تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے زخم دل پھر ہرا نہ ہو جائے اس پہ گہری نظر رکھو ورنہ وہ کہیں انتہا نہ ہو جائے وہ کہیں پھر سونامی لہروں سا دوسرا زلزلہ نہ ہو جائے اس کو ڈر ہے کہ اس کی چوکھٹ پر کوئی آکر کھڑا نہ ہو جائے مجھ سے بچنا کہ تیرا میرا کہیں آمنا سامنا نہ ہو جائے

    مزید پڑھیے

    آ گیا پھر بہار کا موسم

    آ گیا پھر بہار کا موسم آپ کے انتظار کا موسم کوئی دھڑکن جدا نہیں ہوگی دل پہ ہے اختیار کا موسم تیرا چہرہ شباب پھولوں کا تیری آنکھیں خمار کا موسم آؤ جی بھر کے دوستی کر لیں صرف اک دن ہے پیار کا موسم آپ آئے تو آ گیا شارقؔ رفتہ رفتہ قرار کا موسم

    مزید پڑھیے

    سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں

    سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں پھر بھی بے جان داستان ہوں میں کچھ سمجھ میں مرے نہیں آتا میں زمیں ہوں یا آسمان ہوں میں تو ہے رونق مری میں تیرے بنا ایک ویران سا مکان ہوں میں جس خزانے کی تم تلاش میں ہو اس خزانے کا اک نشان ہوں میں صرف دو چار دن کی بات نہیں زندگی بھر کا سائبان ہوں میں

    مزید پڑھیے

    یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا

    یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا اپنی تحریر میں دریا کی روانی رکھنا میں چلا آؤں گا بہکے ہوئے موسم کی طرح تم مرے نام کوئی شام سہانی رکھنا لوگ پوچھیں تو کوئی بات نہ کہنا ان سے دل میں پوشیدہ ہر اک غم کی کہانی رکھنا میں جسے دیکھ کے اندازہ لگا لوں تیرا اپنے نزدیک کوئی ایسی نشانی ...

    مزید پڑھیے

    گلابوں کی طرح مہکا تو ہوگا

    گلابوں کی طرح مہکا تو ہوگا اگر دل ہے تو دل دھڑکا تو ہوگا یہ سارا شہر ہی اک اجنبی ہے مگر پھر بھی کوئی اپنا تو ہوگا مرے سر کو قلم کرنے سے پہلے مرے بارے میں کچھ سوچا تو ہوگا جہاں پر کوئی بھی رہتا نہیں ہے وہاں رہنے کو سناٹا تو ہوگا مرے بھی واسطے شارقؔ کے دل میں کوئی نہ کوئی دروازہ ...

    مزید پڑھیے