تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے
تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے
زخم دل پھر ہرا نہ ہو جائے
اس پہ گہری نظر رکھو ورنہ
وہ کہیں انتہا نہ ہو جائے
وہ کہیں پھر سونامی لہروں سا
دوسرا زلزلہ نہ ہو جائے
اس کو ڈر ہے کہ اس کی چوکھٹ پر
کوئی آکر کھڑا نہ ہو جائے
مجھ سے بچنا کہ تیرا میرا کہیں
آمنا سامنا نہ ہو جائے