گلابوں کی طرح مہکا تو ہوگا

گلابوں کی طرح مہکا تو ہوگا
اگر دل ہے تو دل دھڑکا تو ہوگا


یہ سارا شہر ہی اک اجنبی ہے
مگر پھر بھی کوئی اپنا تو ہوگا


مرے سر کو قلم کرنے سے پہلے
مرے بارے میں کچھ سوچا تو ہوگا


جہاں پر کوئی بھی رہتا نہیں ہے
وہاں رہنے کو سناٹا تو ہوگا


مرے بھی واسطے شارقؔ کے دل میں
کوئی نہ کوئی دروازہ تو ہوگا