بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے
بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے یہ زندگی نہ سہی زندگی سی لگتی ہے وہ شام جو کبھی دیوانہ وار آئی تھی وہ شام آج مجھے اجنبی سی لگتی ہے عجیب بات ہے ان سرمئی اندھیروں میں میں جب بھی دیکھوں مجھے روشنی سی لگتی ہے عجب طلب ہے تری تشنگی نہیں جاتی تو مل بھی جائے تو تیری کمی سی لگتی ہے