Masihuddin Shariq

مسیح الدین شارق

مسیح الدین شارق کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے

    بچھڑ کے کوئی ملے تو خوشی سی لگتی ہے یہ زندگی نہ سہی زندگی سی لگتی ہے وہ شام جو کبھی دیوانہ وار آئی تھی وہ شام آج مجھے اجنبی سی لگتی ہے عجیب بات ہے ان سرمئی اندھیروں میں میں جب بھی دیکھوں مجھے روشنی سی لگتی ہے عجب طلب ہے تری تشنگی نہیں جاتی تو مل بھی جائے تو تیری کمی سی لگتی ہے

    مزید پڑھیے

    تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے

    تجھ سے مل کر نیا نہ ہو جائے زخم دل پھر ہرا نہ ہو جائے اس پہ گہری نظر رکھو ورنہ وہ کہیں انتہا نہ ہو جائے وہ کہیں پھر سونامی لہروں سا دوسرا زلزلہ نہ ہو جائے اس کو ڈر ہے کہ اس کی چوکھٹ پر کوئی آکر کھڑا نہ ہو جائے مجھ سے بچنا کہ تیرا میرا کہیں آمنا سامنا نہ ہو جائے

    مزید پڑھیے

    آ گیا پھر بہار کا موسم

    آ گیا پھر بہار کا موسم آپ کے انتظار کا موسم کوئی دھڑکن جدا نہیں ہوگی دل پہ ہے اختیار کا موسم تیرا چہرہ شباب پھولوں کا تیری آنکھیں خمار کا موسم آؤ جی بھر کے دوستی کر لیں صرف اک دن ہے پیار کا موسم آپ آئے تو آ گیا شارقؔ رفتہ رفتہ قرار کا موسم

    مزید پڑھیے

    سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں

    سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں پھر بھی بے جان داستان ہوں میں کچھ سمجھ میں مرے نہیں آتا میں زمیں ہوں یا آسمان ہوں میں تو ہے رونق مری میں تیرے بنا ایک ویران سا مکان ہوں میں جس خزانے کی تم تلاش میں ہو اس خزانے کا اک نشان ہوں میں صرف دو چار دن کی بات نہیں زندگی بھر کا سائبان ہوں میں

    مزید پڑھیے

    یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا

    یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا اپنی تحریر میں دریا کی روانی رکھنا میں چلا آؤں گا بہکے ہوئے موسم کی طرح تم مرے نام کوئی شام سہانی رکھنا لوگ پوچھیں تو کوئی بات نہ کہنا ان سے دل میں پوشیدہ ہر اک غم کی کہانی رکھنا میں جسے دیکھ کے اندازہ لگا لوں تیرا اپنے نزدیک کوئی ایسی نشانی ...

    مزید پڑھیے

تمام