سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں
سیکڑوں سال کی زبان ہوں میں
پھر بھی بے جان داستان ہوں میں
کچھ سمجھ میں مرے نہیں آتا
میں زمیں ہوں یا آسمان ہوں میں
تو ہے رونق مری میں تیرے بنا
ایک ویران سا مکان ہوں میں
جس خزانے کی تم تلاش میں ہو
اس خزانے کا اک نشان ہوں میں
صرف دو چار دن کی بات نہیں
زندگی بھر کا سائبان ہوں میں