یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا

یاد رہ جائیں جو وہ لفظ و معانی رکھنا
اپنی تحریر میں دریا کی روانی رکھنا


میں چلا آؤں گا بہکے ہوئے موسم کی طرح
تم مرے نام کوئی شام سہانی رکھنا


لوگ پوچھیں تو کوئی بات نہ کہنا ان سے
دل میں پوشیدہ ہر اک غم کی کہانی رکھنا


میں جسے دیکھ کے اندازہ لگا لوں تیرا
اپنے نزدیک کوئی ایسی نشانی رکھنا


یہ تو ہم ہیں جو تجھے ساتھ رکھا ہے شارقؔ
ورنہ آساں تو نہیں دشمن جانی رکھنا