دسترس میں کہکشاں جگنو دیا کچھ بھی نہیں

دسترس میں کہکشاں جگنو دیا کچھ بھی نہیں
شکر ہے پھر بھی مرے مولیٰ گلہ کچھ بھی نہیں


کون ہے مقتول قاتل کون سب خاموش ہیں
بے حسی ہے ورنہ آنکھوں سے چھپا کچھ بھی نہیں


اس دل بیتاب کو تسکین آخر کون دے
اس کی قسمت میں تحمل کے سوا کچھ بھی نہیں


روز و شب کے ان گنت اوراق پلٹے ہیں مگر
زندگی کی کیا حقیقت ہے پتا کچھ بھی نہیں


تیری قدرت میں ہے سارے مسئلوں کا حل نہاں
تیرے آگے میرے مولیٰ مسئلہ کچھ بھی نہیں


کیا یہ کم ہے امتی ہوں میں ترے محبوب کا
کیسے کہہ دوں اے خدا مجھ کو ملا کچھ بھی نہیں


منصفوں کے فیصلے اس دور میں ہیں بے مثال
اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں


بے وفا کو کیا سناتا میں وفا کی داستاں
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں


میں کسی کو کیوں سناؤں اپنی روداد حیات
تو مرا مقصودؔ تجھ سے تو چھپا کچھ بھی نہیں