بزدل یا مظلوم جہاں میں کہلانے سے کیا ہوگا
بزدل یا مظلوم جہاں میں کہلانے سے کیا ہوگا
ٹوٹی ہی شمشیر نکالو ڈر جانے سے کیا ہوگا
کب تک یہ تقدیر کا رونا آؤ کچھ تدبیر کریں
آنکھ میں آنسو چاک گریباں درشانے سے کیا ہوگا
بھوکے کی تم بھوک مٹاؤ تو پھر کوئی بات بنے
شیش محل کے خواب سنہرے دکھلانے سے کیا ہوگا
دھرتی پر سکھ چین کی خاطر من کے میل کو صاف کرو
گنگا جل میں جسم کو اپنے نہلانے سے کیا ہوگا
علم و ہنر کو کام میں لاؤ مستقبل کی فکر کرو
حال میں ماضی کی بھولوں پر پچھتانے سے کیا ہوگا
مار کے ٹھوکر رسوائی کو حق اپنا لے لو مقصودؔ
بیچ کے غیرت جام مروت چھلکانے سے کیا ہوگا